جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد امریکی اندرونی حالات

وال اسٹریٹ جرنل نے سابق اور موجودہ امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ شہید سلیمانی کے قتل کے بعد امریکہ میں سکیورٹی الرٹ کی صورتحال کو خفیہ رکھا گیا تھا۔

ولایت پورٹل:وال سٹریٹ جرنل نے الجزیرہ کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ امریکہ نے 2020 کے اوائل میں جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے فوراً بعد انتقامی کارروائی کے خوف سے وفاقی عمارتوں کے گرد حفاظتی اقدامات سخت کر دیے تھے۔
 اس اخبار نے سابق اور موجودہ امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ شہید سلیمانی کے قتل کے بعد امریکہ میں سکورٹی الرٹ کی حالت کو خفیہ رکھا گیا تھا اور اسے "لچکدار آپریشن" کا نام دیا گیا تھا،امریکی حکام کے مطابق اس آپریشن میں سائبر حملوں کو پسپا کرنے کی تیاری اور کوسٹ گارڈ نیز بارڈر گارڈ کو جوابی کارروائی کے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے الرٹ کرنا شامل تھا۔
 اس اخبار کے مطابق اس کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ردعمل کا خوف صرف امریکی عہدہ داروں کے قتل تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں امریکی حکومت کے مفادات کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے، یاد رہے کہ شہید لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی 3 جنوری 2020 کو بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب امریکی فضائی حملے میں شہید ہو گئے جس کے کچھ دن کے اندر ہی ایران میں عراق میں واقع عین الاسد امریکی اڈے پر میزائلوں کی بارش کر کے لیا تھا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین