Code : 2713 12 Hit

الحشد الشعبی پر امریکی حملہ عراقی وزیر اعظم کے انتخاب جڑا ہے

عراق کے قانونی اور سیاسی ماہر نے گذشتہ رات الحشد الشعبی پر ہونے والے امریکی حملے کو عراق کے وزیر اعظم کے انتخاب کے سلسلہ میں ہونے والی پیشرفت سے جوڑ دیا ہے۔

ولایت پورٹل:العہد نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سابق عراقی پارلیمنٹ  ممبر اور جج وائل عبداللطیف نے انبار میں واقع الحشد الشعبی کے دفتر پر امریکی فوج کی جارحیت کو جرم قرار دیتے ہوئے اسے عراق کے نئے وزیر اعظم منتخب کرنے کے عمل سے منسلک کیا،انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ الحشد الشعبی کی موجودگی سے مطمئن نہیں ہے  تاہم صوبہ الانبار میں ان اس تنظیم کے ٹھکانوں  کو نشانہ بنانا جرم اور عراقی خودمختاری نیز ملکی سالمیت کی خلاف ورزی ہے،انھوں نے کہا کہ الحشد کے ٹھکانوں پر بمباری وزیر اعظم کے انتخاب میں ہونے والی پیشرفت سے منسلک ہے ، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کے انتخاب کا معاملہ کافی حساس ہوچکا ہے،عراقی ماہر اور عدالتی عہدیدار نے صدر برہم صالح کو برطرف کیے جانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر کو برطرف کرنے کا اختیار  صرف فیڈرل کورٹ کو ہے ،انھوں نے کہا کہ  صدارتی حلف کو ختم کرنے کا واحد راستہ وفاقی عدالت ہے  نہ کہ  پارلیمنٹ ،عبداللطیف  نے مزید کہا کہ اگر وفاقی عدالت بجا طور پر برطرفی جاری کرتی ہے تو پھر پارلیمنٹ اس برخاستگی کو حتمی شکل دے سکتی ہے۔




0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम