Code : 3145 14 Hit

جارحیت کی کمانڈ کرنے والے کشیدگی کو کم کرنے کی بات کر رہے ہیں؛ الحوثی کا برطانوی وزیرخارجہ کو جواب

یمنی انقلابی اعلی کونسل کے سربراہ نے برطانوی سکریٹری خارجہ کے جواب میں کہا کہ آپ کے ملٹری مشیر بھی امریکی فوجیوں کے ساتھ یمن جنگ کی قیادت کررہے ہیں۔

ولایت پورٹل:یمنی انقلاب کی  سپریم کونسل کے صدر محمد علی الحوثی نے اپنے ٹویٹر پیج پر برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک روب  جانب سے یمن میں تناؤ کم کرنے کےمطالبہ کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ڈومینک روب غلط راستے چل رہے ہیں ، انھیں تناؤ کو کم کرنے کے لئے  تنازعہ کی قیادت کرنے والے مشترکہ آپریشن روم میں برطانوی اور امریکی ماہرین سے ملنا چاہیے تھا جن کی وجہ سے تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
الحوثی نے کنائیہ آمیز الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیر خارجہ کو برٹش ٹورناڈو لڑاکا طیارے کی  رپورٹ بھی دیکھنا چاہیے تھی ۔
اس سے ان کی مراد یمن کے صوبہ  الجوف کی فضا میں دو ہفتہ قبل  برطانوی لڑاکا طیارے  کا یمنیوں کے ہاتھوں گر کر تباہ ہونا تھا۔
مذکورہ یمنی عہدیدار نےبرطانوی وزیر کو مخاطب  کرتے ہوئے  کہا جناب وزیر صاحبً ہم  مجرمانہ جارحیت کے خاتمے پر متفق ہیں ، اسے کم کرنے پر نہیں ، ہم میں اور آپ میں یہی فرق ہے۔
یادرہے کہ برطانوی وزیر خارجہ کی یمن میں تناؤ کو کم کرنے کی تجویزایسے وقت میں  سامنے آئی ہے جبکہ  گذشتہ  ایک ماہ  کے دوران یمن کی فوج اور انصار اللہ فورسز نے الجوف اور مارب صوبوں میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیے ہیں  اور نھم اسٹریٹجک ضلع اورالجوف صوبے کے مرکزی شہر الحزم کوآزاد کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں  نیز اس وقت حزب اکوانی الاصلاح کے مرکز سمجھے جانے والے نہایت اہم شہر مأرب سے صرف سات کلو میٹر کی دوری تک پہنچ چکے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے اور انہیں فوراً یمنی بحران میں کمی کرنا یاد آگیا ہے۔




0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین