Code : 3765 12 Hit

لبنان میں امریکی سفیر کو حزب اللہ کے خلاف بولنا مہنگا پڑا؛انٹرویو دینے پر پابندی عائد

لبنان کی ایک عدالت میں اس ملک میں تعینات امریکی سفیر پر متعدد باراشتعال انگیز بیان دینے کی وجہ سے میڈیا میں انٹرویو دینے پر پابندی عائد کردی ہے۔

ولایت پورٹل:القدس العربی اخبار کی رپورٹ کے مطابق لبنان میں تعینات امریکی سفیر کے حزب اللہ کے خلاف متنازعہ بیان دینے کے 24 گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں  لبنان کی عدالت نے آج ایک حکم جاری کیا جس میں سفیر پر میڈیا میں انٹرویو دینے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بیروت میں امریکی سفیر ڈورٹی شیا نے جمعہ کے روز ٹیلیویژن چینل سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ حزب اللہ لبنان کے معاشی بحران کے حل کے راستہ میں رکاوٹ ہے اور حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ لبنان کے استحکام کےلیے خطرہ ہیں۔
واضح رہے کہ جنوبی لبنان کے علاقے صور میں ایک ہنگامی صورت حال کے جج  محمد مازح نے ایک حکم جاری کرتے ہوئے امریکی سفیر پر کسی بھی میڈیا کو انٹرویو دینے پر پابندی عائد کردی ہے۔
اس حکم میں لبنان میں کام کرنے والے کسی بھی لبنانی یا غیر ملکی میڈیا کو ایک سال تک امریکی سفیر سے انٹرویو لینے یا ان سے کسی بھی طرح کی بات کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ  کسی بھی ذرائع ابلاغ کی جانب سے اس حکم کی خلاف ورزی کرنے پر ایک سال کی پابندی اور 200000 $ جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔
صور نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق لبنانی جج نے یہ فیصلہ امریکی سفیر کے عرب الحدث چینل کو دیے جانے والے ایک  انٹرویو کے شواہد کی بنیاد پر جاری کیا جس میں شیا نے لبنانی عوام کے خلاف توہین آمیز اور تفرقہ انگیز بیانات دیئے جس سے لبنان میں مذہبی اور فرقہ وارانہ تفریق کو گہرا نیزاور لبنان کے امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔




0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین