Code : 3036 23 Hit

امریکہ طالبان معاہدہ؛صلح یا دھوکہ

افغانستان میں آج سے لاگو ہونے والے تشدد کو کم کرنے کے 7 روزہ امریکہ طالبان معاہدے میں افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کا کو ذکر نہیں ہوا اور دونوں فریقین دوحہ میں اپنے مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ولایت پورٹل:افغانستان میں  آج سے لاگو ہونے والے تشدد کو کم کرنے کے 7 روزہ  امریکہ طالبان معاہدے کے تحت دوحہ میں امریکہ اور طالبان  کے مابین امن معاہدے پر دستخط ہونے تک ، طالبان کو سات دن تک افغانستان میں حملے روکنے ہوں گے۔
یاد رہے کہ تشدد کو کم کرنے کے منصوبہ کا آغاز افغان صدر اشرف غنی کے سرکاری اعلان سے ہوا ،تاہم ارگ  نے حالیہ دنوں میں اس کی مخالفت کی تھی۔
غنی  کے ترجمان صدیق صدیقی نے صحافیوں کو بتایا کہ اس معاہدہ سے طالبان کو افغانستان میں تشدد جاری رکھنے کا موقع ملے گا۔
یادرہے کہ جمعرات کے روز دوحہ میں ، امریکہ اور طالبان کے درمیان  مذاکرات کے نویں دور کا آغاز ہوا ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا یہ آخری دور ہے۔
یادرہے کہ 2011 میں جب افغان صدر حامد کرزئی نے امریکہ اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کا انکشاف کیا تو اس وقت اس پربہت زیادہ رد عمل ہوا ۔
اسی دوران  ایک جرمن میگزین (اسپیگل) نے امریکہ طالبان مذاکرات کی نقاب کشائی کرتے ہوئے یہاں تک کہ یہ دعوی کیا کہ مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں اور  جرمنی میں تازہ ترین دور انجام پایا ہے۔
مذکورہ اخبار نے مغربی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ نومبر 2010 میں جرمنی میں امریکہ اور طالبان حکام کے پہلے اجلاس میں جرمنی اور قطر کے ذریعہ ثالثی کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ طالبان کے ساتھ امریکہ کی بات چیت کوگرچہ امن کے دعووں اور تشدد کے خاتمے کے جواز کا نام دیا جاتا رہا ہے ، لیکن اس میں تشدد اور انتہا پسندی کو بھڑکانے کا کردار پوشیدہ نہیں ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں برسوں سے طالبان کے ساتھ بات چیت جاری ہے ، لیکن اس کے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے، اس ناکامی کی ایک وجہ طالبان کے مطالبات اور حالات سے منسوب کی جاسکتی ہے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम