Code : 2501 26 Hit

ٹرمپ کا دورۂ افغانستان؛ایک تیر دو نشان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں تعینات اپنے فوجیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے پیشگی اطلاع کے بغیر جمعرات کو افغانستان پہنچے جہاں انہوں نے اعلان کہ وہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات پھر سے شروع کر رہے ہیں ،وہ مذکرات جو اٹھارہ سالہ جنگ کے خاتمے کی امید میں شروع ہوئے تھے اور امریکہ ہی نے انھیں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہونے دیا

ولایت پورٹل:امریکی صدر ایک طرف افغانستان کا اچانک دورہ کررہے ہیں اور دوسری طرف طالبان کے ساتھ مذاکرات  بالکل آخری مرحلہ میں پہنچ چکے تھا  یعنی اب معاہدہ ہونے ہی والا تھا کہ ٹرمپ نے یو ٹرن لے لیا یکبارگی مذاکرات منقطع کر لیے ، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایسی خارجہ پالیسی کے خواہاں ہیں جس کے ذریعہ آئندہ سال میں آنے والے انتخابات میں کامیاب ہوسکیں،یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  افغانستان میں تعینات  اپنے فوجیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے  پیشگی اطلاع کے بغیر جمعرات کو افغانستان پہنچے جہاں  انہوں نے اعلان کہ  وہ  طالبان کے ساتھ امن مذاکرات  پھر سے شروع کر رہے ہیں ،وہ مذکرات  جو اٹھارہ سالہ جنگ کے خاتمے کی امید میں شروع ہوئے تھے اور امریکہ ہی نے انھیں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہونے دیا،ٹرمپ نے شمالی کابل میں امریکی فوج کے ہیڈکواٹر  پر افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ بھی  ملاقات  کی جس میں انھوں نے کہا کہ طالبان مذاکرات کرنے کے لیے تیار نہیں پر ہمیں ان سے ملنا ہوگا،قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ  کی جانب سے  اچانک امن مذاکرات کا اعلان  وہ بھی ایسے وقت میں جب افغانستان انتخابی نتائج کے سلسلہ میں کشیدگی  کا شکار ہے اور امریکی نائن الیون کے حملوں کے فورا بعد شروع ہونے والے آپریشن سے تنگ آچکے ہیں ، ایک افسوس ناک لمحہ ہے ،قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر نے نئے سرے سے مذاکرات شروع کرنے کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن ان کا دائرہ کار اور امکانات واضح نہیں  کیے نیز وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں نے بھی  ٹرمپ کے اچانک اعلان کے بارے میں بہت کم معلومات فراہم کیں،افغانستان جاتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی ترجمان اسٹیفنی گریشم نے اصرار کیا کہ یہ سفر "واقعی فوجیوں کی حوصلہ افزائی کرنے  اور ان کے تحفظ کے بارے میں ہے اس میں طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے  کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوگی۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम