Code : 3893 13 Hit

اقوام متحدہ کے فیصلے ہمیشہ سعودی اور اماراتی ڈالر وں کی بنیا پر ہوتے ہیں:یمنی عہدہ دار

یمنی وزارت اطلاعات کے نائب سربراہ اور انصار اللہ انفارمیشن سینٹر کے سربراہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے فیصلے امریکہ ، سعودی اور اماراتی ڈالر کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔

ولایت پورٹل:یمن کے نائب وزیر اطلاعات اور انصار اللہ انفارمیشن سینٹر کے سربراہ نصرالدین عامر نے یمن کے خلاف سعودی اتحاد کے جرائم پر اقوام متحدہ کی خاموشی کی وجہ کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ ابتدا ہی سے جارحیت پسند ریاستوں کی سخت حامی رہی ہے کیونکہ ہمیشہ اقوام متحدہ کے فیصلوں پر ہر طرح سے امریکی مسلط رہے ہیں  اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، انہوں نے مزید کہاکہ اس کے علاوہ سعودی اور اماراتی پیسہ بھی اقوام متحدہ کے فیصلوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے اور یہ بات اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل بان کی مون کے اظہار خیال سے ظاہر ہوئی جب انھوں نے سعودی عرب کو بچوں کے حقوق پامال کرنے والوں کی فہرست سے خارج کردیا اس لیے کہ ایسا انھوں نے اس کے بعد کیا جب ریاض کی طرف سے اقوام متحدہ کو دی جانے والی مالی مدد کاٹ دیے جانے کی دھمکی دی گئی تھی، ان دھمکیوں کے کچھ دن بعدسعودی عرب کا نام اس فہرست سے خارج کردیا گیا،اس وقت اس سے بڑھ کر اور افسوسناک بات کیا ہوگی کہ اقوام متحدہ  نہ صرف یہ کہ یمن میں ہونے والی جارحیت کے بارے میں خاموش ہے  بلکہ قاتلوں کے حق میں اور متاثرین کے خلاف کارروائی بھی کرتی ہے۔
انہوں نے یمن میں ایندھن کے بحران اور ایندھن لے جانے والے جہازوں پر قبضے کے سعودی اقدام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایندھن کے بحران کے بارے میں جس کی سب سے بڑی وجہ جارح ممالک کا اقدام ہے  ، میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ  ملک کی عام صورتحال  خاص طور پر صحت کی صورتحال نیز کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سائے میں ہونے والی تباہی کے واقعات کی نشاندہی کرتی ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین