Code : 3648 5 Hit

متحدہ عرب امارات کے سفیر نے ثابت کردیا ہے کہ عرب اسرائیل تعلقات کی بحالی ممکن ہے:صہیونی میڈیا

صہیونی میڈیا کے ایک ذرائع ابلاغ نے اسرائیلی اخبار میں متحدہ عرب امارات کے سفیر کے بیان کو اس بات کی علامت قرار دیا ہے کہ اگر مغربی کنارے کے حالات نہیں بدلے تو امن معاہدہ کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لینا پیشگی شرط کے طور پر قبول نہیں کیا جائے گا۔

ولایت پورٹل:ٹائمز آف اسرائیل  کی ویب سائٹ نے اپنے ایک مضمون میں ، ییدیوت آہرنوٹ اخبار میں متحدہ عرب امارات کے سفیر کے کے بیان کا جائزہ لیا اور لکھا ہے کہ اس اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں صہیونی حکومت کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ممکن ہے۔
یادرہے کہ جمعہ کے روز یدیوت اخبار میں عبرانی زبان میں واشنگٹن میں ابوظہبی کے سفیر  یوسف العتیبه کا ایک بیان شائع ہوا ہے جس میں انھوں نے مغربی کنارے پر قبضے کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عرب ممالک کے ساتھ تل ابیب کے تعلقات معمول پر لانے کے عمل میں کافی اثر پڑے گا۔
مذکورہ اخبار کی ویب سائٹ نے مزید لکھا ہے کہ قبضے کے منصوبے پر بنیامین نیتن یاہو کے متنازعہ بیانات کے بارے میں کچھ عہدیدار اور میڈیا جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کے برخلاف متحدہ عرب امارات کے سفیر کے بیان سے پتہ چلتا ہے کہ نیتن یاہو اس کے بارے میں جتنی زیادہ بات کرتے ہیں ، اتنا ہی لوگوں کو یقین ہوجاتاہے کہ وہ ایسا کر رہے ہیں اور ایسا کریں گے لیکن اگر وہ  اچانک مغربی پٹی کو الحاق کرنے سے پرہیز کریں تو عربوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لئے یہ زیادہ کارآمد ہوگا۔
ٹائمز آف اسرائیل نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس بیان سے کم از کم ایک چیز ثابت ہوجاتی ہے کہ نیتن یاھو کے قبضے پر اصرار نے ایجنڈے کو اتنا بدل دیا ہے کہ لگتا ہے کہ جب تک مغربی کنارے پر موجودہ صورتحال میں تبدیلی نہیں لاتی اس وقت تک عرب دنیا اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں کو جاری رکھے گی۔
 

 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین