بغداد ائرپورٹ کے قریب راکٹ حملہ

کل رات بغداد کے بین الاقوامی ایئر پورٹ کے اطراف میں دو راکٹ داغے گئے۔

ولایت پورٹل:عراقی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق بغداد ایئر پورٹ کے اطراف میں ہونے والے راکٹ حملوں سے جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا،اس سے قبل بھی بغداد ایئر پورٹ کے اس حصے میں کئی مرتبہ راکٹ داغے گئے جہاں داعش کا مقابلہ کرنے والے نام نہاد امریکی اتحاد کے فوجی رہتے ہیں،یادرہے کہ گزشتہ ہفتوں کے دوران  بغداد میں امریکی سفارتخانے اور اسی طرح امریکی دہشت گردی کے مراکز التاجی اور البلد پر کئی راکٹ داغے گئے۔
واضح رہے کہ عراقی عوام اور سیاسی اور مذہبی جماعتیں، ملک سے فوری طور پر امریکہ کے دہشت گرد فوجیوں کا انخلا چاہتی ہیں اور عراقی پارلیمنٹ نے بھی عراق سے فوری طور پر امریکہ کے دہشت گرد فوجیوں کے انخلا سے متعلق قرار داد بھی متفقہ طور پر منظور کی ہے،یادرہے کہ 3 جنوری کو امریکی دہشت گردوں نے فضائی حملہ کر کے جنرل قاسم سلیمانی، ابو مہدی المہندس اور ان کے کئی دیگر ساتھیوں کو شہید کر دیا تھا جس کے بعد ایران نے 8 جنوری کو عراق میں امریکی دہشت گردی کے اہم اڈے عین الاسد پر درجنوں میزائل داغے، ایران کے اس جوابی حملے میں امریکہ کو بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوالیکن امریکہ نے اس کو چھپانے کے بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکا اور اب وہ عراق میں باقی رہنے کے لیے جان توڑ کوشش کررہا ہے، کبھی عوام میں اختلاف ڈالتا ہے اور کچھ لوگوں کو بھڑکا کر سڑکوں پر لاتا ہے اور کبھی عوامی تنظیم الحشد الشعیبی پر حملے کرتا ہے تاکہ عوام کا ذہن انخلا کے مطالبہ سے موڑا جاسکے جبکہ آئے دن اس ملک میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر حملے ہورہے ہیں اور ا س کو شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن وہ اپنی ہٹ دھرمی پر اڑا ہوا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین