آزادی بھی وہیں ہوگی جہاں ہم کہیں گے، ٹویٹر نے سیکڑوں اکاؤنٹ بند کر دیے

امریکی کمپنی ٹویٹر نے اعلان کیا ہے کہ ایف بی آئی (فیڈرل انویسٹی گیشن بیورو) کے تعاون سے کمپنی نے ایران ، روس اور آرمینیا سے متعلق 373 صارفین کے اکاؤنٹس کو بند کردیا ہے۔

ولایت پورٹل:انسانی حقوق کے کارکنوں نے ٹیکنالوجی کے  ٹھیکیداروں  کے ہاتھوں اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی اور امریکی انٹلی جنس خدمات کے ساتھ ان کے تعاون کے سلسلہ میں انتباہ دیا ہے اسی سلسلہ میں  ٹویٹر نے 373 ایرانی ، روسی اور آرمینیائی اکاؤنٹس کو  بند کرنے کا اعلان کیا، منگل کی شام ٹویٹر نے اطلاع دی کہ ایران ، روس اور ارمینیا سے جڑے 373 اکاؤنٹس کو غلط بیانی ،قوانین کی خلاف ورزی یا معلومات میں چھیڑ چھاڑ کے سبب حذف کردیا گیا ہے۔
 امریکی کمپنی ٹویٹر نے ایران سے متعلق 238 صارفین کے اکاؤنٹ حذف کرنے کے بارے میں وضاحت کی ، کرتے ہوئے کہا کہ  ٹویٹر نے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ساتھ شراکت داری کی ہے،کمپنی نے اکتوبر 2020 میں ایرانی نسل کے 130 صارف اکاؤنٹس کو حذف کرنے کے لئے کمپنی کی کاروائی کا بھی حوالہ دیا، ٹویٹر کے مطابق اس کمپنی نے آرمینیا سے متعلق 35 اکاؤنٹ حذف کردیئے جن کے ارمینی حکومت سے روابط تھے کیونکہ ان اکاؤنٹس کو جمہوریہ آذربائیجان کے خلاف حکومتی بیانیے کو آگے بڑھانے کے لئے معلومات اور حقائق کے ذریعہ جوڑ لیا گیا تھا۔
 کمپنی کے مطابق  جمہوریہ آذربائیجان میں آرمینیا سے متعلق کچھ جعلی اکاؤنٹس سیاسی شخصیات اور عہدیداروں کے بھیس  سرگرم تھے،امریکی کمپنی ٹویٹر نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس نے نیٹو کو کمزور کرنے کے لئے افواہوں کی اشاعت کے ساتھ سارھ ریاستہائے متحدہ اور یوروپی یونین کو نشانہ بنانے کی وجہ سے روس سے متعلق 100 اکاؤنٹ حذف کردیئے ،واضح رہے کہ  ٹویٹر نے ایسی صورتحال میں کاروائی کی جہاں امریکی کمپنی فیس بک نے اس سے قبل ایران کی حمایت کے پیغامات کی اشاعت کی وجہ سے سیکڑوں اکاؤنٹس کو اسی طرح کی کاروائی میں حذف کردیا تھا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین