Code : 3865 4 Hit

یورپ کی سب سے بڑی نسل کشی کی پچیسویں برسی

آج سنیچر کو سبرنیٹسامیں یوروپی نسل کشی کی 25 ویں برسی منائی جارہی ہے۔

ولایت پورٹل:ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق  آج دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یورپی کی سب سے بڑی نسل کشی سبرنیٹسا میں بوسنیا کے مسلمانوں کی نسل کشی کی 25 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے، اس پروگرام میں تقریب میں آٹھ افراد اورنوعمر لڑکوں کے باقیات کو بھی دفن کیا جائے گا، یادرہے کہ سبرنیٹسا قتل عام کے متاثرین کی یاد منانے کے لئے ہر سال ہزاروں افراد جمع ہوتے ہیں  لیکن اس سال کورونا وبا کی وجہ سے مذکورہ افراد کے لواحقین میں سے کچھ ہی افراد  کو ان کے پیاروں کی قبروں کی زیارت کی اجازت دی گئی ہے۔
یورو نیوز  نےبھی اس خبر کو نشر کرتے ہوئے اس نسل کشی کی تاریخ کے بارے میں لکھاہے کہ 11 جولائی  1995 کو جب بوسنیا کی جنگ عروج پر تھی تو جمہوری بوسنیا کی سرب فوج سبرنیٹسا شہر کے ہفتوں کے محاصرے کے بعد اقوام متحدہ کے سیف زون میں داخل ہوئی جس کے بعد اس نے اقوام متحدہ کے زیرانتظام علاقوں سے بین الاقوامی امن فوجیوں کی آنکھوں کے سامنے - جن میں بیشتر ڈچ تھے - 8000 سے زیادہ مسلم مرد اور نوعمر لڑکوں کو باہر نکالا اور 10 دن کے اندر ان سب کو قتل کردیا۔
اس قتل عام کے بعد ، بوسنیا کے سرب فوجیوں نے کئی علاقوں میں اجتماعی قبروں میں لاشیں پھینک دیں اور اس جرم کے آثار کو ختم کرنے کے لئے محلوں پر بلڈوز پھیردیا تاہم  بعد میں بین الاقوامی اور بوسنیا کے سائنس دانوں نے ایک آپریشن میں متاثرہ افراد کی ہڈیاں تلاش کرنے کا کام شروع کیا جو ابتدائی طور پر ناممکن سمجھا جاتا تھا لیکن وہ   ڈی این اے ٹیسٹ کروا کر ان کو لاپتہ افراد  کے نام کے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوگئے، اس پروجیکٹ کو فرانزک دنیا کا سب سے بڑا پرجیکٹ کہا جاتا ہے جس میں  6000 سے زیادہ افراد کی لاشوں کی نشاندہی کی گئی جنہیں  پوٹوگری میموریل قبرستان میں دفن کر دیا گیا تھا ۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین