ترکی کے فلسطین کی حمایت کے کھوکھلے دعوے

ترکی کے صدر کی صیہونی حکومت کے وزیر اعظم کے ساتھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی ملاقات نے ظاہر کیا کہ ظاہری دعووں کے برعکس انقرہ حکام کے لیے بیت المقدس کا مسئلہ اب ضروری نہیں رہا ، ان کے لیے صیہونی حکومت کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی تعلقات کی مضبوطی ہر چیز پر مقدم ہے۔

ولایت پورٹل:ترک صدر رجب طیب اردگان جو حال ہی میں صیہونی حکومت کے ساتھ سیاسی کشیدگی کی وجہ سے خود کو اس حکومت کے جرائم کے خلاف فلسطینی قوم کا حامی ظاہر کرتے تھے لیکن حالیہ مہینوں میں انہوں نے مقبوضہ علاقوں میں غاصبوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے اور ہر روز خود کو فلسطینیوں سے دور کرتا جا رہے ہیں۔
اردگان جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک گئے تھے،  نے اجلاس کے موقع پر صیہونی حکومت کے وزیر اعظم یائر لاپد سے ملاقات اور گفتگو کی، بند دروازوں کے پیچھے منعقد ہونے والی اس میٹنگ میں امریکی یہودی کمیونٹی کے کچھ افراد نے شرکت کی۔ اس ملاقات کا تذکرہ ایک طویل سیاسی وقفے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان گرمجوشی کے تعلقات کی ایک نئی علامت کے طور پر کیا جا رہا ہے۔
 اسی وقت جب اردگان اور لاپڈ کی ملاقات ہوئی، ترکی کے وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ اعلیٰ ترین سفارتی سطح پر تعلقات بحال کرے گا، یاد رہے کہ جیسے ہی  ترکی کے صیہونیوں کے ساتھ تعلقات معمول پر آنا شروع ہوئے، ترک حکومت نے اس ملک میں تحریک حماس کے دفاتر بند کر دیے اور اس عمل سے صیہونیوں کے لیے اپنی خدمت کا ثبوت دیا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین