ترکی میں پانچ سال قبل ناکام بغاوت میں ملوث ہونے کے الزام میں 71 افراد گرفتار

ترکی کی سکیورٹی فورسز نے پانچ سال قبل ناکام بغاوت میں ملوث افراد سے تعلقات رکھنے کے الزام میں 70 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ولایت پورٹل:اناطولیہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق انقرہ کی فتح اللہ گولن تحریک کے اراکین اور اس سے وابستہ تنظیموں  اور ان کے مبلغین نیزامریکہ میں مقیم ترک حکومت کی مخالف جماعت سے وابستہ افراد کے خاتمے کی پالیسی  اس ملک میں کوئیڈ 19 وائرس کے وسیع پیمانہ پر پھیلنے کے باوجود جاری ہے، انقرہ پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے گولن تنظیم کے ساتھ تعاون میں اور 15 جولائی  2016 کو ہونے والی ناکام بغاوت میں ملوث ہونے کے الزام میں  سکیورٹی فورسز کے ذریعہ حراست میں لئے گئے 71 مشتبہ افراد کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جن میں ترکی کی مسلح افواج کے 82  ممبر بھی شامل ہیں ، ان پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے ایجنٹوں کے ذریعہ استعمال ہونے والا ایک پروگرام  بای‌لاک سافٹ ویئر استعمال کیا ہے۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ پر مواصلاتی گروپوں کے لیک ہونے کے بعد پانچ  سال  پہلےکی بغاوت کے مرتکبین نے بای‌لاک سافٹ ویئر کو مربوط کرنے کے لئے استعمال کیا، ترکی کی سکیورٹی فورسز کے ذریعہ آج کا آپریشن ، جو بیک وقت 20 صوبوں میں کیا گیا تھا ، ملک میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے سبب ایک وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا ہے، جمعہ کے روز 35 افراد کو اسی طرح کے بہانے سے گرفتار کیا گیا تھا۔
انقرہ کا کہنا ہے کہ  گولن کی تنظیم کے ممبران زیادہ تر ترکی کے سرکاری اداروں اور تنظیموں میں خفیہ درانداز تھے ،واضح رہے کہ ترک حکومت نے  ایک دہشت گرد اور 15 جولائی ، 2016 کو ہونے والی  ناکام بغاوت  سربراہ فتح اللہ گولن جو امریکہ میں مقیم ہیں ، امریکہ سے مطالبہ ترکی کے حوالے کر دے،یادرہے کہ  اس بغاوت میں 250 کے قریب افراد ہلاک اور 2 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے ،اس کو کچلنے کے لیے ترک فوجیوں کی ایک بڑی تعداد نے ٹینکوں ، جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں جیسے فوجی سازوسامان کا استعمال کیا۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین