Code : 2264 83 Hit

تیونس کے صدارتی امیدوار کو موساد کی حمایت حاصل

تیونس کی ڈیموکریٹک کی فرنٹ پارٹی نےاس ملک کے صدارت امید وار نبیل القروی کے خلاف ایک ریفرنس دائر کی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے کینیڈا کی ایک کمپنی کے ساتھ ایک معاہدہ پر دستخط کئے ہیں جس کمپنی کا مالک موساد کا سابق آفیسر ہے۔

ولایت پورٹل:تیونس کے صدارتی انتخابات میں دوسرے مرحلے پر پہنچنے والے امیدوار نبیل القروی کو موساد کے ایک سابق افسر کی حمایت حاصل ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس کو لے کر اس ملک میں میں ہنگامہ آرائی چل رہی ہے،تیونس کی ڈیموکریٹک کی فرنٹ پارٹی نے القروی کے خلاف ایک ریفرنس دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے کینیڈا کی ایک کمپنی کے ساتھ ایک معاہدہ  پر دستخط کئے ہیں جس کمپنی کا مالک موساد کا سابق آفیسر ہے ،ڈیموکریٹک فرنٹ نے ریفرنس کے ساتھ سوشل میڈیا پر کچھ ایسےدستاویزات بھی منتشر کیے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ القروی نے کینیڈا ک ی ایک کمپنی کے ساتھ ایک ملین ڈالر  کا معاہدہ کیا ہے  جس کا مقصد القوی کی امریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر پوٹن کے ساتھ ملاقات کے لیے زمینہ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ تیونس میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ان کی حمایت کریں،ڈیموکرٹک فرنٹ نے اپنے ریفرینس میں مزید کہا ہے کہ امریکہ کی ایک عدالت نے بھی بدھ کے روز اس معاہدہ  کا ایک نسخہ منتشر کیا ہے ،رای الیوم اخبار نے لکھا ہے کہ القروی کی سربراہی میں چلنے والی قلب تیونس پارٹی نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد القروی کوآئندہ انتخابات میں شکست سے دوچار کرنا ہے ، تیونس کے الیکشن کمیشنر نبیل بفون بھی کہا ہے کہ  اس ریفرنس کے بارے میں تحقیق کی جائے گی اور اس کے سلسلہ میں مناسب قدم اٹھایا جائیگا، یاد رہے کہ تیونس  کے اعلیٰ حکام  نے 23 اگست کو القروی کو بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا تھا جس کے بعد سے  وہ اب تک جیل میں ہیں،تیونس کے پہلے مرحلے کے انتخابات کچھ دن پہلے ہوئےہیں  اور الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق آزاد امیدوار قیس سعید علی اور نبیل القروی دوسرے مرحلے میں پہنچ چکے ہیں،الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ 13 اکتوبر کو دوسرے مرحلہ کے انتخابات ہوں گے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम