Code : 2289 48 Hit

یہ بولتے بہت ہیں اور پھر پھنس جاتے ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نہایت ہی قریبی اور حامی مشیر ان کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس شخص کی مشکل یہ ہے کہ یہ بولتے زیادہ ہیں جس کی وجہ سے میڈیا انھیں کوسنے کا بہانہ مل جاتا ہے۔

ولایت پورٹل:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آئے دن کوئی نہ کوئی معاملہ سرخیوں میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے نہایت قریبی دوست  بھی ان کا دفاع کرتے ہوئے ہوئے مشکلات کاشکار ہو جاتے ہیں اس کی ایک مثال اسٹیفن مور ہیں جو ان  کے اقتصادی مشیر بھی ہیں اور 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اہم کردار ادا کرنے والے بھی ہیں،اسٹیفن مور نےالجزیرہ چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ان کا بھر پور انداز میں دفاع کیا  لیکن آخر کار یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ یہ بولتے زیادہ ہیں جس کی وجہ سے میڈیا کو ان پر تنقید کرنے کا موقع مل جاتا ہے،اسٹیفن سے جب پوچھا گیا کہ ٹرمپ اتنا زیادہ جھوٹ کیوں بولتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اس طرح کی باتیں کرنے سے ان کے  صدارتی وقار  میں کمی آجاتی ہےلیکن مجھے  امید ہے کہ ایسا نہیں کریں گے اور جھوٹ بولنے سے باز آجائیں گے،جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا  وہ ٹرمپ کو جھوٹا سمجھتے ہیں؟ تو انھوں  نے  ہنستے ہوئے کہا کہ میں نے انھیں جھوٹا تو نہیں  کہا ، میرے خیال میں ٹرمپ بولنے میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں جو بعد میں ان کے لیے درد سر بن جاتا ہے،جب  اسٹیفن سے پوچھا  گیا کہ  ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے اقتصاد میں پانچ فیصد اضافہ ہو گا جبکہ سب کو معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوگا یا یہ کہ انھوں نے کہا کہ میرے والد جرمنی میں پیدا ہوئے جب کہ سب جانتے  ہیں کہ ان کے والد نیویارک میں پیدا ہوئے یا انھوں نے کہا کہ  بیوی ملانیا شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کو بہت اچھے طریقے سے جانتی ہیں جبکہ ملانیانے اب تک ان کو دیکھا تک نہیں  کیا یہ سب بھی مبالغہ آرائی ہے ؟ یہ تو صاف صاف جھوٹ ہیں،آخر میں اسٹیفن نے کہا کہ ٹرمپ ہیں بہت ذہین اور چالاک نیز دوسرے سیاستدانوں کے برخلاف وہ نجی محفلوں میں بہت اچھے انسان ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम