Code : 1452 34 Hit

ایک طرف سخت ترین ظالمانہ پابندیاں اور دوسری طرف مذاکرات کی خواہش؛ایران کے تئیں ٹرمپ کا مضحکہ خیز رویہ

امریکی صدر ٹرمپ نے ٹوکیو میں جاپان کے وزیر اعظم کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دعوی کیا ہے کہ وہ اختلافات کے حل کے لئے ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لئے آمادہ ہیں۔

ولایت پورٹل:فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ٹوکیو میں جاپان کے وزیر اعظم شینزو آبے کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لئے جاپان کی ممکنہ ثالثی کے بارے میں نامہ نگاروں کی جانب سے کئے جانے والے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاپان کے اچھے تعلقات رہے ہیں اور یہ ملک اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے،امریکی صدر ٹرمپ نے دعوی کیا کہ انھیں اس بارے میں کوئی پریشانی نہیں ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور ایرانی حکام اگر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو امریکا  بھی بات چیت کے لئے تیار ہے  ،ایران کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے بارے میں امریکہ نے یہ دعوی ایسی حالت میں کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی ایٹمی معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی کا اعلان کر کے ایران کے خلاف غیر قانونی اور ظالمانہ پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں اور وہ خلیج فارس کے علاقے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا کر اس علاقے میں مسلسل بحران و بدامنی کا باعث بنا ہوا ہے،دریں اثنا ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے کہا ہے کہ امریکہ نے اپنی وعدہ خلافی اور جارحانہ عزائم کا اظہار کر کے خود ہی مذاکرات کے دروازے بند کر دیئے ہیں،ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی مسقط میں عمان کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں امریکہ کے ساتھ ایران کے کسی بھی طرح کے براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے،علاوہ ازیں رہبر معظم آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے چودہ مئی کو ایرانی حکام اور اعلی عہدیداروں سے اپنے خطاب میں  فرمایا ہے کہ ایرانی عوام کا یہ حتمی فیصلہ ہے کہ وہ امریکہ کے مقابلے میں استقامت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور اس معرکے میں بھی امریکہ پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔
سحر




0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम