Code : 2301 93 Hit

شام سے نکلنا امریکہ کا صحیح فیصلہ اب اسے عراق و افغانستان سے بھی نکل جانا چاہیئے

گارڈین اخبار کے نامہ نگار سائمن جینیکنس نے کہا ہے کہ شام سے فوج واپس بلانے کا امریکی فیصلہ بالکل صحیح لیکن ناقص ہے یہ اس وقت مکمل ہوگا کہ جب ٹرمپ انتظامیہ عراق و افغانستان سے بھی اپنی فوجیں واپس بلائے۔

ولایت پورٹل: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعہ شام سے فوج کو واپس بلانا کچھ لوگوں کے لئے اچھا فیصلہ تھا تو کچھ لوگوں کے لئے 33 ہزار ولٹ کے کرنٹ لگنے جیسا تھا۔
اس فیصلہ سے سب سے بڑا صدمہ اسرائیل کو پہونچا ہے کیونکہ اسرائیل کو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ جس طرح مدد کا وعدہ کرکے امریکہ نے شام کے کردوں کو ایکیلا چھوڑ دیا کہیں اسی طرح ایک دن اسے بھی ایسی تنہائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس فیصلے سے دوسرا بڑا نقصان آل سعود اور اماراتی شہزادوں کو ہوا ہے چونکہ خطے میں امریکی موجودگی ان کے لئے بھی بڑی ڈھارس تھی انہیں یہ امید تھی کہ وہ امریکہ کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کر کے خطے میں بڑی بڑی سرمایہ کاریاں کریں گے اور جس کے بدلے امریکہ انہیں مشرق وسطیٰ میں تحفظ فراہم کرے گا اور اس طرح پورے عالم اسلام پر ان کی دادا گری کا رعب جما رہے گا۔
اس فیصلہ میں سب سے  عبرت ناک نقصان کردوں کا ہوا اور ان کی امیدوں کے تمام محل زمیں بوس ہوگئے۔ چونکہ انہوں نے تو امریکہ سے اتحاد کرکے بڑے بڑے خواب آنکھوں میں سجائے تھے۔
خود امریکی صدر کے اس فیصلے سے امریکہ میں بھی کہرام ہے کچھ لوگ اس کی موافقت کررہے ہیں تو کچھ لوگ ٹرمپ کے اس فیصلے کو غلط بتلا رہے ہیں۔
لیکن گارڈین اخبار کے نامہ نگار سائمن جینیکنس کا ایک آرٹیکل چھپا ہے جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ شام سے فوج واپس بلانے کا امریکی فیصلہ بالکل صحیح لیکن ناقص ہے یہ اس وقت مکمل ہوگا کہ جب ٹرمپ انتظامیہ عراق و افغانستان سے بھی اپنی فوجیں واپس بلا لے ۔نیز گارڈین اخبارکے رائٹر نے ٹرمپ کا کردوں کا ساتھ چھوڑنے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا کہ بیرونی ممالک میں مسلسل جنگ کی حالت میں رہنا امریکہ کے لئے صحیح نہیں ہے اور اب شام میں امریکی فوج کی موجودگی کا کوئی اسٹریٹیجک جواز بھی باقی نہیں بچا چنانچہ  اگر امریکی فوج مزید مدت دراز کے لئے یہاں رکتی ہے تو اس کے سامنے کئی طوفان ہیں جنہیں سرکرنا اس کے بس کی بات نہیں۔



 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम