Code : 2368 71 Hit

ٹرمپ نے ہمیں بھی کہیں کا نہیں چھوڑا: سابق صہیونی وزیر

سابق صہیونی وزیر نے مغربی ایشیا کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اقدامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خود اعتمادی سے کام لینا چاہیے۔

ولایت پورٹل:ایک صہیونی سابق وزیر نے مغربی ایشیا کے سلسلے میں ٹرمپ کے حالیہ یہ اقدامات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ٹرمپ پر بھروسا کرنے کے بجائے خود اعتمادی سے کام لینا چاہیے تھا ،صہیونی ریاست کی  سابق ٹیکنیکل انفارمیشن وزیر اور موجودہ صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی سربراہی میں سرگرم لیکوڈ پارٹی کی رکن لیمورلیفنٹ  نےعبری  زبان میں شائع ہونے والے اخبار Yedioth Ahronoth  میں اپنا بیانیہ نشر کرتے ہوئے لکھا ہےکہ مغربی ایشیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے سلسلے میں ہمیں کوئی بھی قابل اعتماد شخصیت نہیں ملی جس کی ہمارے پاس بہت ساری دلیلیں موجود ہیں جن میں سے ایک شام سے امریکی فوجی انخلاء کے بارے میں ٹرمپ کا اعلان ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے ایران کی سلسلے میں کوئی نیا موقف اختیار نہیں کیا جس کی وجہ سےتل ابیب کو کافی پریشانی لاحق ہے، صیہونی سابق وزیر نے داعش کے سرغنہ  ابوبکرالبغدادی کے مارے جانے کے سلسلے میں امریکی دعوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اگرچہ یہ مسئلہ ٹرمپ کے لیے امریکہ کی داخلی فضا میں اور عمومی افکار میں مثبت ثابت ہوا ہے لیکن اس بات کا باعث نہیں بنتا کہ ہمیں  ٹرمپ کے حالیہ اقدامات سے جو سبق حاصل ہوا ہے وہ بھول جائیں،صیہونی سابق وزیر نے مزید  لکھا ہے کہ جب امریکی صدر اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے اسرائیل کے نہایت ہی وفادار دوست جان بولٹن کو ہٹا دیتے ہیں تو ہمیں پریشان ہونا چاہیے یا نہیں ،صہیونی ی وزیر نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ سعودی تیل کمپنی آرامکو پر ہونے والے ڈرون حملوں میں ایران کا ہاتھ ہے اور ٹرمپ اس کا جواب دینے کے بجائے یہ اعلان کرتے ہیں ہماراایران کے ساتھ جنگ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، انہوں نے مزید لکھا ہے کہ جب ہم ٹرمپ کے اس طریقے کے موقف کو دیکھتے ہیں تو ہماری پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے ،صہیونی وزیر نے کہا اگرچہ ٹرمپ نے ہمارے لیے یے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے اور جولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل میں شامل کرنے جیسے اہم کام کام انجام دیے ہیں  لیکن اس کے باوجود ہم اس شخص پر اعتماد نہیں کر سکتے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम