Code : 847 30 Hit

بیت المال کو خُرد بُرد کرنے والوں پر امیرالمؤمنین(ع) کا غضب

علی ابن ابی طالب(ع) سے پہلے بیت المال میں بڑے بڑے گھوٹالے ہوئے اور وہ لوگ جو بے سروسامانی کے عالم میں مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تھے صرف ۳۰ ، ۴۰ برس میں ہی ان کے پاس اتنا کثیر مال جمع ہوگیا تھا کہ جب ان کی موت کے بعد مال کو ورثاء میں تقسیم کرنے کا وقت آیا تو سونے کو کلہاڑیوں سے کاٹ کر ورثاء میں تقسیم کیا گیا۔اب آپ خود اندازہ لگائیے کہ جو اسلام سرمایہ دارانہ نظام جاہلی کے خاتمے کے لئے آیا تھا اس کے ماننے والے خود کیسے سرمایہ دار بن گئے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! بیت المال اسلامی حکومت کے اس خزانے کو کہا جاتا ہے جہاں سے پوری حکومت اسلامی کے تئیں کام کرنے والوں کو تنخواہیں ضرورتمندوں کو ضرویات کو پورا کیا جاتا ہے ۔البتہ بیت المال صرف اسلامی حکومت سے ہی مخصوص نہیں ہوتا ہر حکومت کا ایک عام خزانہ ہوتا ہے جسے عام شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے اور ان کے رفاہ پر خرچ کیا جاتا ہے۔لیکن اصطلاح میں کسی بھی حکومت کے خزانے کو بیت المال نہیں کہا جاتا بلکہ یہ لفظ صرف اسلامی حکومت سے مخصوص خزانے پر اطلاق ہوتا ہے۔
اب اگر آپ کسی حکومت کے تعلق سے یہ معلوم کرنا چاہتے ہوں کہ یہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہے یا نہیں؟ تو اس کا ایک معیار یہ ہے کہ آپ اس کے حاکم اعلیٰ اور والی اور عہدیداروں کی طرز زندگی سے پتہ لگا سکتے ہیں کہ اس ملک کے لوگ خوش حال ہیں ہیں یا بد حال۔
اب اس سے پہلے کہ آپ اس معیار کو دریافت کرنے کے لئے ہم سے سوال کریں ہم خود ہی وضاحت کردینا چاہتے ہیں۔
کسی بھی ریاست میں رعایا کے خوش حال یا بد حال ہونے کا معیار یہ ہے کہ اگر اس کے حکمراں بیت المال کو اپنے عیش و نوش اور اقرباء پروری میں خرچ کررہے ہوں تو اس ملک کے عوام زبوں حالی میں زندگی گذارنے پر مجبور ہونگے چونکہ ایسے حکمرانوں کے لئے حکومت تک رسائی ایک فرصت ہوتی ہے اور وہ اس فرصت سے زیادہ سے زیادہ اپنا پیٹ بھرنے،اپنوں کا پیٹ بھرنے،اپنے لئے جائدائیں بنانے اپنے لئے  فیکٹریاں بنانے پر خرچ کردیتے ہیں اور جب انتخابات آتے ہیں اور اگر کرسی ان کے ہاتھ سے چلی جاتی ہے تو وہ الٹا حکومت کو مقروض دکھا دیتے ہیں۔
لیکن وہ حکمراں جن کی زندگی کا شعار سادگی ہوتا ہے وہ اپنے آپ تو بھوکا رہ سکتا ہے لیکن کبھی اپنی رعایا کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔وہ خود تو سوکھی روٹی کھا سکتے ہیں لیکن کبھی  اپنی رعایا کو بھوکے پیٹ نہیں دیکھ سکتا۔
اب ہمارے سامنے یہ دو طرح کے حکومتنی انداز ہیں ان میں سے اسلام نے جس نظریہ کی بنیاد ڈالی وہ یہی دوسرا اور آخری نظریہ ہے چنانچہ سرکار رسالتمآب(ص) کی الہی حکومت کی تمام مدت اسی عمل کی عکاس تھی اور بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہیں کہ اسلامی حکومت کے لئے بیت المال کا وجود بھی خود سرکار(ص) کی دور حکومت میں وجود میں نہیں آیا بلکہ آپ کے وصال کے بعد جو لوگ حکومت میں آئے انہوں نے اس کی داغ بیل ڈالی۔البتہ بیت المال کی داغ بیل ڈالنا صحیح کام تھا یا نہیں؟ وقت کی ضرورت تھا یا نہیں؟ ہم اس بارے میں تو کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے لیکن یہ ضرور کہیں گے کہ علی ابن ابی طالب(ع) سے پہلے بیت المال میں بڑے بڑے گھوٹالے ہوئے اور وہ لوگ جو بے سروسامانی کے عالم میں مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تھے صرف ۳۰ ، ۴۰  برس میں ہی ان کے پاس اتنا کثیر مال جمع ہوگیا تھا کہ جب ان کی موت کے بعد مال کو ورثاء میں تقسیم کرنے کا وقت آیا تو سونے کو کلہاڑیوں سے کاٹ کر ورثاء میں تقسیم کیا گیا۔اب آپ خود اندازہ لگائیے کہ جو اسلام سرمایہ دارانہ نظام جاہلی کے خاتمے کے لئے آیا تھا اس کے ماننے والے خود کیسے سرمایہ دار بن گئے۔
آخرکار رسول خدا(ص) کا حقیقی جانشین جب مسند خلافت پر آیا تو آپ نے سب سے پہلے بیت المال کو خرد برد ہونے سے بچایا چونکہ امیرالمؤمنین(ع) جانتے تھے کہ بیت المال اس وقت اسلامی حکومت کی ریڈ کی ہڈی ہے اگر اسے اپنوں ہی نے توڑ دیا تو پھر اسلامی حکومت کو منظم کرنا ایک سخت ترین عمل بن جائے گا چنانچہ آپ نے اپنے والیوں اور گورنروں نیز حکومت کے ہر کارندے کو بیت المال کے تئیں احساس ذمہ داری کا پیمان لیکر عہدہ دیا تھا۔اور آپ کے لئے سب سے بڑی مصیبت کی خبر یہ ہوتی تھی کہ جب آپ کے پاس بیت المال میں  کسی عامل یا گورنر  کی خیانت کی اطلاع پہونچتی تھی۔
ایک روایات میں ملتا ہے کہ علی علیہ السلام کے پاس یہ خبر پہونچی کہ آپ کے نہایت قابل اعتماد، چچازاد بھائی ابن عباس نے بیت المال میں کچھ بے جا تصرف کیا ہے۔ ایسا تصرف کہ جسے آج کے دور میں عام طور پر نظر میں بھی نہیں لاتا۔ لیکن حضرت یہ خبر سن کر نہایت غضبناک ہوئے اور ابن عباس کو ایک خط تحریر فرمایا چنانچہ وہ خط نہج البلاغہ میں موجود ہے:
عباس کے بیٹے! مجھے تم سے یہ امید نہ تھی خدا کی قسم اگر تم نے ایسا کیا ہو۔جیسا کہ مجھے خبر پہونچی ہے۔اور اگر تم نے آئندہ ایسا کرنے کی کوشش کی تو میں تمہیں اسی شمشیر سے سبق سکھاؤں گا جس سے میں نے جفاکاروں کو بے حساب و کتاب جہنم رسید کیا ہے۔
اور اس کے بعد تحریر فرماتے ہیں: ابن عباس! خدا کی قسم! اگر حسن و حسین بھی یہ کام کرتے تو میں ان کے ساتھ بھی اسی طرح پیش آتا۔
قارئین کرام! آپ خود اندازہ لگا لیجئے کہ وہ علی جو اپنی خصوصی ملاقات میں بیت المال کا چراغ بھی استعمال نہ کرے وہ کس درجہ بیت المال کی پرواہ کرتا ہوگا؟



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम