Code : 1011 14 Hit

آج ہردور اور ہر فتنہ کے مقابلے کے لئے عملی بھائی چارہ کا زمانہ ہے:رہبر انقلاب

عالمی لٹیرے جو پوری دنیا پر حکومت کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، امت اسلامیہ کے اتحاد اور ان کی بیداری سے ہراساں ہیں اور اس کو اپنے برباد کرنے والے اور تباہ کن منصوبے کے مقابلہ میں رکاوٹ سمجھ رہے ہیں اسی لئے ان کی کوشش یہ ہے کہ خود کو اس سے آگے اور اوپر رکھیں۔آج ہرفتنہ کے مقابلہ میں ہردور کے لئے عملی بھائی چارے کا زمانہ ہے۔ آج امام زمانہ حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی حکومت کا امکان فراہم کرنے کا زمانہ ہے۔ ہرجانب سے دعوت الٰہی کے قبول ہونے کا زمانہ ہے۔

ولایت پورٹل: آج عالم اسلام کو پہلے سے زیادہ اتحاد و اتفاق رائے اور قرآن سے تمسک اختیار کرنے کی ضرورت ہے، دوسری طرف آج عالم اسلام کے لئے عزت و اقتدار کی بحالی اور توسیع کی ظرفیت پہلے سے زیادہ واضح ہوگئی ہے اور امت اسلامیہ کی عظمت و شوکت کا دوبارہ حصول انقلابی جوانوں کا محرک اور ان کی چاہت بن گیا ہے۔ ظالموں کے منافقت پر مبنی نعروں کی ہوا نکل گئی ہے اور امت اسلامیہ پر ان کی بدنیتی، تدریجی طور پر کھل کر سامنے آگئی ہے۔
دوسری جانب عالمی لٹیرے جو پوری دنیا پر حکومت کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، امت اسلامیہ کے اتحاد اور ان کی بیداری سے ہراساں ہیں اور اس کو اپنے برباد کرنے والے اور تباہ کن منصوبے کے مقابلہ میں رکاوٹ سمجھ رہے ہیں اسی لئے ان کی کوشش یہ ہے کہ خود کو اس سے آگے اور اوپر رکھیں۔
آج ہرفتنہ کے مقابلہ میں ہردور کے لئے عملی بھائی چارے کا زمانہ ہے۔ آج امام زمانہ حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی حکومت کا امکان فراہم کرنے کا زمانہ ہے۔ ہرجانب سے دعوت الٰہی کے قبول ہونے کا زمانہ ہے۔ آج ایسا زمانہ ہے کہ جس میں آیہ:’’اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ اِخْوَۃٌ‘‘۔ اور’’لَا تَقُولُوا لِمَنْ اَلْقیٰ اِلَیْکُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِناً‘‘ اور ’’اَشِدّآءُ عَلَیٰ الْکُفَّارِ رُحَمآء بَیْنَھُمْ‘‘ کی تلاوت کرکے اپنے دلوں کو منور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ اتحاد عیسائیوں یا دیگر ادیان اور قوموں کے خلاف نہیں ہے بلکہ جارحیت کرنے والوں ، غاصبوں اور جنگ کی آگ بھڑکانے والوں کے خلاف ہونے کے علاوہ اخلاق و معنویت کے نفاذ، عقلانیت و اسلامی انصاف کے بحال کرنے نیز علمی و اقتصادی ترقی اور اسلامی وقار و عزت کی بحالی کے لئے ہے۔
ہم دنیا والوں کو یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ جب  مسلم حکمرانوں  کے دور حکومت میں بیت المقدس مسلمانوں کے تحت اختیار تھا تب عیسائی اور یہودی لوگ بالکل ہی پرسکون اور تحفظ سے لبریز زندگی گذار رہے تھے، لیکن اب جبکہ قدس اور دیگر مراکز پر صہیونیوں یا صہیونی صیلبیوں کا قبضہ ہے۔ مسلمانوں کا خون بہانا کس قدر جائز سمجھاجارہا ہے؟


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम