Code : 2320 117 Hit

اپنے بچے کو معاشرے کا ذمہ دار فرد کیسے بنائیں؟

ظاہر ہے بچپن کھیل کود کا زمانہ ہوتا ہے اس میں سب سے اہم کام بچوں کے لئے کھیلنا کودنا ہوتا ہے اور اگر وہ اسکول بھی جاتے ہیں تو ان کی منشأ یہی ہوتی ہے کہ وہ وہاں جاکر اپنے دوستوں سے ملیں،باتیں کریں اور وقت ملے تو کھیلیں، اسی وجہ سے جدید تعلیمی سسٹم میں نرسری اور پلے نرسری اسکولوں کی بنیاد ڈالی گئی ہے کہ جہاں بچوں کو کھیل کھیلونوں کی زبان میں ہی کچھ مفید چیزیں بھی یاد کرادی جاتی ہیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! بچوں کی تربیت میں ایک اہم چیز یہ ہے کہ ہم ان کی اس طرح پرورش و تربیت کریں کہ وہ کل بڑے ہوکر معاشرہ میں ذمہ دار فرد کی حیثیت سے زندگی گذاریں اور یہ کام والدین کا اہم فریضہ ہوتا ہے لہذا آئیے ہم کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں بات کرتے ہیں جس کے ذریعہ ہم اپنے بچوں میں ذمہ دار بننے کا جوہر نکھار سکیں۔
ظاہر ہے بچپن کھیل کود کا زمانہ ہوتا ہے اس میں سب سے اہم کام بچوں کے لئے کھیلنا کودنا ہوتا ہے اور اگر وہ اسکول بھی جاتے ہیں تو ان کی منشأ یہی ہوتی ہے کہ وہ وہاں جاکر اپنے دوستوں سے ملیں،باتیں کریں اور وقت ملے تو کھیلیں، اسی وجہ سے جدید تعلیمی سسٹم میں نرسری اور پلے نرسری اسکولوں کی بنیاد ڈالی گئی ہے کہ جہاں بچوں کو کھیل کھیلونوں کی زبان میں ہی کچھ مفید چیزیں بھی یاد کرادی جاتی ہیں۔
چنانچہ بچوں میں یہ جوہر نکھارنے کے لئے بچپن سے ہی ان کے روز مرہ کے کاموں کو ان کے سپرد کرکے والدین کو نظارت کرنا چاہیے۔ جیسا کہ آپ تمام ہی والدین کا مشاہدہ و تجربہ ہے کہ جب بچہ 2، 3 یا 4 برس کی عمر میں ہوتا ہے اسے والدین کی مدد کرنے کا بڑا شوق ہوتا ہے لہذا ان کی اس خصوصیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرصت کو ترک نہیں کرنا چاہیئے۔خاص طور پر وہ بچے جو 4 برس کے ہوتے ہیں وہ بہت سے کاموں میں آپ کا ہاتھ بٹا سکتے ہیں مثال کے طور پر گلاس ،کپ پلیٹ وغیرہ آپ کو دے سکتے ہیں۔ اپنے کھیلونوں کو کھیل کے بعد اکھٹا کرکے رکھ سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
اپنے بچوں کو معاشرہ کا ایک ذمہ دار فرد بنانے کے لئے ہمیں ان چند ایک نکات کی طرف توجہ دینا ضروی ہے:
1۔ والدین بچوں کے سپرد وہی کام کریں جو ان کی عمر کے حساب سے موزوں ہوں اور وہ انہیں انجام دے سکتے ہوں۔
2۔ایسے چھوٹے چھوٹے کام بچوں سے کروانے کی عادت ڈالنا چاہیئے جو انہیں جلد تھکائیں۔
3۔ کسی بھی کام کو بچے کے سپرد کرنے سے پہلے چند بار انہیں خود کرکے دکھانا چاہیئے۔
4۔ اگر بچے سے کوئی غلط کام ہوجائے تو اس کی ملامت و مذمت نہ کی جائے بلکہ جتنا ہوسکے اس کے کام کی قدر دانی کیجئے۔ چونکہ اگر آپ اس کے غلط کام پر اس کی سرزنش کریں گے تو وہ یہ تصور کرنے لگے گا کہ وہ کبھی ٹھیک سے کام نہیں کرسکتا۔ البتہ اسے اس انداز سے سمجھایا جائے کہ وہ اس کا غلط مطلب نہ نکالے۔ چونکہ جیسے جیسے وہ بڑا ہوگا اس میں خود یہ شعور بیدار ہوتا جائے گا کہ فلاں کام،کیسے کرنا ہے۔
5۔ ہمیشہ بچے کے سامنے مثبت جملات کا ہی استمعال کرنا چاہیئے چنانچہ تربیتی ماہرین اس موقع پر یہ مثال بیان کرتے ہیں کہ اگر آپ کے بچے نے نئے کپڑے پہنے ہیں یا اس نے اسکول کی یونیفورم پہن رکھی ہے اور وہ اب کھیلنا چاہتا ہے تو اسے کبھی یہ نہ کہیں کہ اگر تم نے اپنے نئے کپڑے نہیں بدلے تو ۔۔۔۔ بلکہ ہمیشہ اس طرح کا جملہ استعمال کریں: اگر تم کھیلنا چاہتے ہو تو پہلے اپنے کپڑے تبدیل کرلو  ‘‘۔ لہذا اگر آپ چند بار اس کے سامنے اس طرح کہیں گے تو یہ بچے کی عادت بن جائے گی اور وہ اپنے نئے کپڑے یا اسکول کا یونیورم اتار کر ہی کھیلے گا۔
6۔لیکن سب سے پہلے والدین کو یہ ذہن نشین کرلینا چاہیئے کہ اگر آپ اپنے بچوں کو معاشرہ کا ایک ذمہ دار فرد بنانا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کے تئیں امانتدار ہونا پڑے گا ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے گھر کی ذمہ داریوں کو ادا کرتے وقت سستی اور تساہلی کا شکار ہوں اور بچوں سے یہ امید کریں کہ وہ ذمہ دار فرد بن کر بڑے ہوں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम