Code : 2570 411 Hit

ایسے گناہ جن کی سزا اسی دنیا میں مل جاتی ہے

آج اس زمانے میں جہاں بہت سی چیزیں تبدیل ہوئی ہیں ان میں والدین کے احترام میں کمی کو بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے چونکہ کبھی تو ہم اس طرح اپنے والدین کے ساتھ پیش آتے ہیں جیسے وہ ہمارے قرضدار ہوں یا انہوں نے ہمارے حق کو غصب کرلیا ہو۔ اور کبھی ان کی بے پناہ محبت و عطوفت کو نظرانداز کرتے ہوئے ایسے ان سے پیش آتے ہیں کہ ان کے دل میں آہ اٹھ جاتی ہے اب عاق کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ والدین علی اعلان اپنی اولاد سے برأت کا اظہار کریں بلکہ دیگر بہت سے ایسے شواہد و قرائن ہیں جن سے ان کے عاق کرنے کا علم ہوجاتا ہے

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ویسے تو گناہ، گناہ ہے چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، اور یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ کسی گناہ کو ہلکا اور سُبک سمجھنے سے وہ گناہ اپنی ماہیت تبدیل کر گناہ کبیرہ ہوجاتا ہے لہذا علماء اخلاق اس بات کی تأکید کرتے ہیں کہ کبھی بھی کسی گناہ کو چھوٹا نہ سمجھو ۔اگرچہ علماء نے خود ہی گناہ کو دو اقسام کی طرف تقسیم کیا ہے:
۱۔ گناہ صغیرہ
۲۔ گناہ کبیرہ
قیامت کے دن سزا ان لوگوں کو ملے گی جو کسی گناہ کبرہ کے مرتکب ہوئے ہونگے۔ لیکن اگر کسی گناہ کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے مقام و منزلت کے لحاظ سے سوچیں تو پھر کوئی بھی گناہ صغیرہ نہیں ہے۔ چونکہ انسان کو یہ نہیں دیکھنا چاہیئے کہ میں نے تو چھوٹا سا گناہ کیا ہے بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ میں جس پروردگار کی معصیت کا مرتکب ہوا ہوں وہ بڑا جلیل المرتبت ہے لہذا یہ گناہ اب صغیرہ نہیں بلکہ کبیرہ ہے۔
ایک اہم بات یہ بھی مد نظر رہے کہ ہر گناہ اور نافرمانی کی سزا و عقاب سے قطع نظر اپنا ایک وضعی اثر ہوتا ہے جو اس کی ذات سے کبھی جدا نہیں ہوتا ۔لہذا جب تک انسان سچے دل سے اللہ کی بارگاہ میں پشیمان ہوکر توبہ نہ کرلے اس کا اثر زائل نہیں ہوتا۔
قارئین کرام! گذشتہ تمہید کے بعد اب ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ کچھ گناہ اتنے سنگین ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی سزا کو قیامت تک کے لئے ملتوی نہیں کرتا بلکہ اسی دنیا میں ہی ان کی سزا دیدیتا ہے تو آئیے حدیث کی روشنی میں ۳ گناہ ایسے ہیں جن کی سزا انسان کو اسی دنیا میں  مل کر رہے گی چنانچہ علامہ مجلسی(رح) نے اپنی کتاب بحار الانوار میں نیز شیخ مفید(رح) نے اپنی امالی میں نقل کیا ہے:’’ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ(ع) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص‏) ثَلَاثَةٌ مِنَ الذُّنُوبِ تُعَجَّلُ عُقُوبَتُهَا وَ لَا تُؤَخَّرُ إِلَى الْآخِرَةِ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَ الْبَغْيُ عَلَى النَّاسِ وَ كُفْرُ الْإِحْسَانِ‘‘۔(امالی شیخ مفید، ص۲۳۷ ، بحار الانوار، ج 74، ص 74)
حضرت علی ابن ابی طالب(ع) نے رسول اللہ(ص) سے نقل کیا ہے کہ ۳ گناہ ایسے ہیں جن کی سزا اسی دنیا میں انسان کو مل جاتی ہے اور عذاب کو قیامت پر موقوف نہیں کیا جاتا:
۱۔ وہ اولاد جنہیں ان کے والدین عاق کردیں
۲۔لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنا
۳۔ احسان فراموشی۔
قارئین کرام! جیسا کہ حدیث میں اشارہ ہوا ہے ان میں سب سے پہلی چیز والدین کا اپنے بیٹے کو عاق کردینا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ والدین کی حق تلفی کرنا کہ جس نے نتیجہ میں والدین اپنی اولاد کو عاق کریں، یہ کتنا عظیم و سنگین گناہ ہے۔
آج اس زمانے میں جہاں بہت سی چیزیں تبدیل ہوئی ہیں ان میں والدین  کے احترام میں کمی کو بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے چونکہ کبھی تو ہم اس طرح اپنے والدین کے ساتھ پیش آتے ہیں جیسے وہ ہمارے قرضدار ہوں یا انہوں نے ہمارے حق کو غصب کرلیا ہو۔ اور کبھی ان کی بے پناہ محبت و عطوفت کو نظرانداز کرتے ہوئے ایسے ان سے پیش آتے ہیں کہ ان کے دل میں آہ اٹھ جاتی ہے اب عاق کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ والدین علی اعلان اپنی اولاد سے برأت کا اظہار کریں بلکہ دیگر بہت سے ایسے شواہد و قرائن ہیں جن سے ان کے عاق کرنے کا علم ہوجاتا ہے جیسا کہ شیخ عباس محدث قمی نے نقل کیا ہے کہ:یہ موارد عاق والدین میں شمار ہوتے ہیں: انہیں ناراض کرنا، ان کے دل کو توڑنا،انہیں اذیت پہونچانا، اور اگر یہ چیزیں ان(والدین) میں سے کسی ایک کے حق میں بھی انجام دیں جائیں تب بھی اولاد عاق شمار کی جائے گی‘‘۔(محدث قمی، شیخ عباس،نزهه النواظر فی ترجمه معدن الجواهر، ص ۱۲۸)
لہذا ہمیں ہر حال میں یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ ہمارے والدین ہم سے ناراض نہ ہونے پائیں اور ہم والدین کو ناراض کرکے کبھی اپنے پروردگار کو خوش نہیں کرسکتے۔
قارئین کرام! دوسرا وہ گناہ جس کی سزا اللہ قیامت میں نہیں بلکہ اسی دنیا میں انسان کو دیتا ہے وہ دوسروں پر ظلم، ستم اور زیادتی کرنا ہے چنانچہ قرآن مجید میں ظلم کرنے والوں کے لئے ارشاد ہوتا ہے:’’لَهمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهادٌ وَ مِنْ فَوْقِهِمْ غَواشٍ وَ کذلِک نَجْزِی الظَّالِمینَ‘‘۔(سورہ اعراف:۴۱)
ترجمہ:ان کے لئے جہّنم ہی کا فرش ہوگا اور ان کے اوپر اسی کا اوڑھنا بھی ہوگا اور ہم اسی طرح ظالموں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا کرتے ہیں۔
کوئی شخص دوسروں پر ظلم کرکے یہ تصور نہ کرے کہ اس نے انہیں نقصان پہونچا دیا ہے بلکہ اسے معلوم ہونا چاہیئے کہ اس نے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔جس طرح دوسروں کے حق میں کئی گئی نیکی سے صرف دوسرے ہی بہرہ مند نہیں ہوتے بلکہ خود نیکی کرنے والے کو بھی فائدہ پہونچتا ہے جیسا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام سے منسوب ایک حدیث میں ارشاد ہوتا ہے:’’ فَاعِلُ الخَیرِ خَیرٌ مِنهُ وَ فَاعِلُ الشَّرِّ شَرٌّ مِنهُ‘‘ نیکی کا کرنے والا نیکی سے بہتر اور برائی کا انجام دینے والا برائی سے بدتر ہوتا ہے۔ پس اگر کسی نے ایک فقیر کو ایک  ضرورت مند کو کچھ دیا تو وہ یہ تصور نہ کرے کہ میری نیکی سے صرف اس فقیر کا بھلا ہوا ہے بلکہ اس نے پہلے مرحلے میں اپنا بھلا کیا ہے جس سے اس کی دنیا و آخرت آباد ہوگی۔
اور اگر ہم قرآن مجید کی آیات میں غور و فکر کریں تو ظالمین اور ان کی سزا و عذاب سے متعلق آیات کی ایک طویل فہرست ہے اہل مطالعہ و تحقیق خود جستجو کرسکتے ہیں۔
تیسرا وہ گناہ جس کی سزا اسی دنیا میں انسان کو ملتی ہے وہ احسان فراموشی ہے۔
قارئین کرام! احسان فراموشی اور اس شخص کے حق کو بھلا دینا جس نے آپ کے حق میں نیکی و بھلائی کی ہے بہت بڑا گناہ ہے اور قیامت کے بجائے اسی دنیا میں انسان کو احسان فراموشی کی سزا مل جاتی ہے۔
اب غور کرنے کا مرحلہ یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ دوسرے بندے کے حق کو بھول جائے تو یہ گناہ کبیرہ ہے اور اس کی سزا اللہ اسی دنیا میں ہی دیتا ہے اب اندازہ کیجئے کہ ہمیں اللہ نے کن کن نعمتوں سے نوازا ہے اور ہم اس کا کتنا شکر ادا کرتے ہیں۔اب اگر ہماری زندگی میں مشکلات کی بھرمار ہے یا ہماری زندگی میں کچھ پریشانیاں ہیں تو ہمیں سوچنا چاہیئے کہ کہیں یہ سب اس وجہ سے تو نہیں ہیں کہ ہم اپنے رب کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے ہیں اور یہ کہیں اس کا ہم پر عذاب تو نہیں ہے؟ جیسا کہ قرآن مجید میں یہ ضمانت لی گئی ہے کہ تم اگر میری نعمتوں کا شکر بجالاتے رہو گے تو میری نعمتیں تمہارے لئے بڑھتی رہیں گی لیکن اگر میرے احسان کو بھول گئے تو میرا عذاب بہت دردناک ہوگا:’’لَئِن شَكَرْتمْ لأَزِیدَنَّكمْ وَلَئِن كَفَرْتمْ إِنَّ عَذَابِی لَشَدِیدٌ‘‘۔(سورہ ابراهیم:7)
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین