Code : 2699 18 Hit

رواں سال میں امریکی خارجہ زوال کے تہہ خانے میں پہنچ گئی: برطانوی اخبار

ایک برطانوی اخبار نے لکھا ہے کہ 2019 میں امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی سفارتی تعلقات اور بین الاقوامی قوانین سے زیادہ اس ملک کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی مفادات ، خود پسندی اور ٹویٹ بازی پر مبنی تھی۔

ولایت پورٹل:برطانوی اخبار گارڈین نے جمعہ کو ایک مضمون میں لکھا ہے کہ 2019 میں امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی کوناکامی کےعلاوہ کچھ ہاتھ نہیں آیا ہے،گارڈین میں شائع ہونے والے مضمون میں مختلف شعبوں میں امریکہ کی ناکامیوں کی وضاحت کی گئی ہے۔
شمالی کوریا
نئی  عیسوی دہائی کے آغاز پر بہت سارے مسائل پیش آئے ہیں لیکن ان سب میں اہم مسئلہ امریکہ کی جانب سے شمالی کوریا کو دھمکی دینا ہے جس کا نتیجہ اس کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ  اور جوہری میزائل تجربات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
شام
شام کے معاملے پر ، ٹرمپ نے اس ملک میں  امریکی فوجیوں کی موجودگی کے بارے میں اچانک اپنا نظریہ بدلا اور تمام امریکی فوجیوں کو شمالی اٹلانٹک معاہدہ آرگنائزیشن (نیٹو) نیز  پینٹاگون کے مشورے کے بغیر شام کی سرزمین چھوڑنے کا حکم دیا،جس کے بعد ترک فوج نے کرد ملیشیاؤں پر وسیع پیمانہ  پر حملے شروع کردیئے۔
افغانستان
2019 میں افغانستان میں امریکی خارجہ پالیسی میں ایک سو اسی ڈگری کا موڑ آیا،امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے تقریبا ایک سال تک طالبان سے مذاکرات کیے اور جب وہ کسی نتیجہ تک پہنچے والے تھے کہ اچانک ٹرمپ نے یوٹرن لیا اور  مذاکرات کو کالعدم قرار دے دیا جس کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی۔
ایران
ایران کے سلسلہ میں امریک کہ خارجہ پالیسی یہ رہی کہ ٹرمپ نے ایران پر ہوائی حملہ کرنے کی دھمکی دی جس  کے نتیجہ میں امریکی ڈرون گرادیا گیا،وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ  نےحملہ شروع ہونے سے 10 منٹ قبل  اس جومنسوخ کرنے کا حکم دے دیا اس لیے کہ اس سے بہت زیادہ جانی نقصان کا خطرہ تھا۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम