Code : 2567 41 Hit

تیس سال میں 3لاکھ40ہزار فلسطینی صیہونیوں کے ہاتھوں گرفتار

سنگ انتفاضہ کی سالگرہ کے موقع پر ایک فلسطینی مرکز نے اعلان کیا ہے کہ صہیونی حکومت نے 1987 کے انتفاضہ سے اب تک 340،000 فلسطینیوں کو حراست میں لیا ہے۔

ولایت پورٹل:الرسالہ ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی اسیروں سے متعلق تحقیقاتی مرکز  کے ترجمان  ریاض الاشقرنے کہا ہے کہ صیہونیوں نے 1948 کے اپنے غاصبانہ قبضہ کے شروع سے ہی فلسطینیوں کو زیادہ سے زیادہ گرفتار کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے جس کے تحت اب تک  10 لاکھ سے زائد افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں لیکن صیہونی حکام پھر بھی اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں  اور فلسطینی قوم کو آزادی کی مزاحمت جاری رکھنے سے باز رکھنے میں ناکام رہے ہیں،انھوں نے مزید کہا کہ پہلے انتفاضہ1987 سے اب تک 3لاکھ40ہزار فلسطینی صیہونیوں کے ہاتھوں گرفتار ہوچکے ہیں الاشقر کا کہنا ہے کہ صیہونیوں نے صیہونی فلسطینیوں کی گرفتاریوں کو ان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں  تا کہ انھیں زیادہ سے زیادہ دبایا جاسکے،انھوں نے مزید کہا کہ انتفاضہ کی ابتدا سے لے کر 1994میں فلسطینی اتھارٹی کے وجود میں آنے تک 97ہزار افراد گرفتار ہوچکے تھے نیز 1994 میں شروع ہونے والے  دوسرے انتفاضہ سے لے کر 2000تک 10 ہزار افراد کی گرفتاری کا ریکارڈ موجود ہے اسی طرح الاقصی  کے دوران 97ہزار افراد صیہونیوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ہیں  ، اس کے بعد 2015سے قدس انتفاضہ چل رہا ہے  جس میں اب تک 26ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے،یاد رہے کہ پہلا فلسطینی انتفاضہ ، جسے سنگ انتفاضہ کے نام سے جانا جاتا ہے ، 8دسمبر 1987میں شروع ہوا اور 1993میں اوسلو معاہدوں پر دستخط جاری رہا ،اس انتفاضہ کو سنگ انتفاضہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ کیونکہ اس میں   فلسطینیوں نے صہیونی حکومت کے خلاف اپنا دفاع کرنے کے لئے پتھر کا استعمال کیا، تخمینے کے مطابق اس  انتفاضہ میں لگ بھگ 1300 فلسطینی شہید ہوئے  جبکہ 160صیہونی بھی ہلاک ہوئے۔






0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین