گذشتہ سال میں تیس ہزار صہیونی آباد کاروں کی مسجد اقصی میں دراندازی

فلسطینی کے اسلامی اوقاف اور مسجد اقصیٰ کے امور کے ڈائریکٹر جنرل نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ سال اس مقدس مسجد میں میں تقریبا 30000 صہیونی آباد کار غیر قانونی طور داخل ہوئے ہیں۔

ولایت پورٹل:فلسطینی نیوز ایجنسی معا کی رپورٹ کے مطابق اسلامی اوقاف اور مسجد اقصیٰ کے امور کے ڈائریکٹر جنرل عزام الخطیب نے  اعلان کیا ہے کہ سال2019میں  اس مقدس مسجد میں میں 29610صہیونی آباد کار غیر قانونی طور داخل ہوئے اور یہ جارحانہ اقدام صہیونی پولیس کے خصوصی دستوں اور انٹیلیجنس عناصر کی حمایت سے کیا گیا،الخطیب نےمزید کہا کہ تمام اشاروں اور اندازں سے مسجد اقصیٰ پر حملوں میںاضافے کی نشاندہی ہوتی ہے اور اس سے مسجد اقصی کی بطور اسلامی مسجد کی موجودہ تاریخی اور قانونی حیثیت کو نقصان پہنچا ہے،انہوں نے صہیونی عہدیداروں کو متنبہ کیا کہ وہ اقصی مسئلے کو سیاسی فوائد اور انتخابی پروپیگنڈے کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے سے پرہیز کریں اس لیے کہ  ان کے اس طرز عمل سے دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں،عزام الخطیب نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی اوقاف مسجد اقصیٰ کی کسی بھی طرح کی بے احترامی کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلی صف میں کھڑا ہے ،انھوں نے تمام فلسطینیوں سے اپیل کی ہے کہ اتحاد کا مظاہرہ کریں تا صیہونی دشمن مسجد الاقصی کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے کی ہمت نہ کرسکے،قابل ذکر ہے کہ بیت المقدس کے تمام مقدس مقامات کی تولیت اردن کے پاس ہے،اس ملک نے 1924میں سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد یہ عہدہ اپنے ہاتھ میں لیا ہے یہاں تک کہ 1988 میں  ملک حسین نے  مغربی پٹی سے ہر طرح کے تعلقات ختم کردیے لیکن اس  کے باجود مسجد الاقصی کی تولیت اپنے ہی  پاس رکھی




0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین