Code : 3605 45 Hit

صدقہ شمار ہونے والے اعمال

صدقہ دینا مسلمانوں کے درمیان ایک اچھی عادت اور ادب شمار ہوتا ہے۔ اسلام میں صدقہ دینے کے بڑے فضائل اور ثواب کا تذکرہ ملتا ہے۔ جب ہمارے درمیان صدقہ دیینے کی بات ہوتی ہے تو ہم میں سے اکثر لوگ یہی سوچتے ہیں کہ صدقہ وہ پیسہ یا مال ہوتا ہے جو کسی ضرورت مند کو دیا جائے جبکہ معصومین(ع) سے نقل ہونے والی احادیث میں صدقہ کے بہت مصادیق بتلائے گئے ہیں اور اس کا دائرہ کسی کو دو پیشہ دینے سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! صدقہ دینا مسلمانوں کے درمیان ایک اچھی عادت اور ادب شمار ہوتا ہے۔ اسلام میں صدقہ دینے کے بڑے فضائل اور ثواب کا تذکرہ ملتا ہے۔ جب ہمارے درمیان صدقہ دیینے کی بات ہوتی ہے تو ہم میں سے اکثر لوگ یہی سوچتے ہیں کہ صدقہ وہ پیسہ یا مال ہوتا ہے جو کسی ضرورت مند کو دیا جائے جبکہ معصومین(ع) سے نقل ہونے والی احادیث میں صدقہ کے بہت مصادیق بتلائے گئے ہیں اور اس کا دائرہ کسی کو دو پیشہ دینے سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ پیغمبر اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا: ہر مسلمان کو ہر دن صدقہ دینا چاہیئے ۔ آپ سے سوال کیا گیا: یا رسول اللہ(ص) ہر دن کون صدقہ دے سکتا ہے چونکہ ہر انسان ہر دن تو صدقہ نہیں دے سکتا۔ حضرت ختمی مرتبت(ص) نے جواب دیا: راستہ میں پڑی ہوئی کوئی نقصان دہ چیز ہٹا دینا بھی صدقہ شمار ہوتا ہے۔ رسول اللہ(ص) نے آگے فرمایا: کسی انسان کو راستہ بتلانا، کسی کو سلام کرنا یا بیمار کی عیادت کرنا بھی صدقہ ہے۔ اور اسی طرح امر بالمعروف کرنے اور نہی عن المنکر کرنا بھی صدقہ ہے۔(۱) یقیناً آپ کے لئے بھی کبھی پیش آیا ہوگا کہ کسی شخص نے آپ سے کہیں کا پتہ معلوم کیا ہو اگر آپ نے اس شخص کو صحیح ایڈریس بتلایا اور اس کی رہنمائی کی تو گویا آپ نے صدقہ دیا ہے۔ کئی مرتبہ راستہ چلتے ہوئے کوئی لکڑی کا ٹکڑا ، پتھر یا شیشہ کا ٹکڑا راستہ میں پڑے دیکھتے ہیں کہ ممکن ہے کوئی اس سے ٹکرائے اور اسے کوئی نقصان پہونچ جائے۔ یا سڑک کے بیچ میں کسی نے کوئی کیل وغیرہ لگا رکھی ہو یا کوئی کانچ کا ٹکڑا پڑا ہو اس پر چل کر کسی گاڑی میں پنچر ہوسکتا ہے اگر آپ نے راستہ سے یہ رکاوٹیں دور کردیں تو گویا آپ نے صدقہ دیدیا۔
اسی طرح رسول اللہ(ص) نے برائی سے خود کو بچانے اور اور کسی نیک کام کو کرنے کو بھی صدقہ کہا ہے۔(۲) نیز اسی طرح اپنی زبان کو غیبت ، تہمت ، گالی گلوچ سے بچانا بھی صدقہ ہے۔(۳)
امام صادق علیہ السلام نے ایک حدیث میں دو لوگوں کے درمیان صلح کروا دینے کو بھی صدقہ بتلاتے ہوئے فرمایا کہ اس کام سے خدا بہت خوش ہوتا ہے۔(۴) اب چاہے آپ نے صلح دو بھائیوں کے درمیان کروائی ہو یا دو بہنوں یا میاں بیوی کے درمیان یا اپنے  کسی دو رشتہ داروں کے درمیان۔
اسی طرح صادق آل محمد(ص) ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں کسی سوار انسان کا پیدل چلنے والا کا اکرام کرنا بھی صدقہ ہے۔(۵) چونکہ یہ ظلم ہے کہ کوئی سوار انسان پیدل چلنے والے سے کہے کہ ہٹ ذرا راستہ چھوڑ۔
آپ نے بارہا دیکھا ہوگا خاص طور پر وہ شہر جہاں ٹرافیک بہت زیادہ ہوتی ہے کچھ موٹر سائیکل والے پیدل چلنے والوں سے مخصوص راستہ پر آکر بائیک چلاتے ہیں یا بڑی گاڑی چلانے والے چھوٹی سواری والوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے بلکہ وہ سوچتے ہیں چونکہ ہم لکزری گاڑی والے ہیں اب ہم جو چاہیں کریں اور دیگر راستہ طئے کرنے والے  الٹا ہمارا خیال رکھیں۔
کسی ضرورت مند کو قرض دینا
اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ کی ۲۴۵ ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے:’’من ذا الذی یقرض الله قرضاً حسناً فیضا عفه له اضغافاً کثیرۃ‘‘۔ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے تاکہ اللہ اسے کئی گنا کردے۔
ہم سب کا یہ عقیدہ و ایمان ہے کہ اللہ ہی ہم سب کا خالق ، مالک و رازق ہے وہی رزق میں برکت و وسعت عطا کرتا ہے اور جب کبھی کسی سے اس کی نظریں کرم ہٹ جائے تو  اس کے لئے رزق کے سارے دروازے بند ہونے لگتے ہیں  اور اس پر روزی تنگ ہوجاتی ہے اب اگر آپ نے کسی ضرورتمند کی مشکل میں اس کے کام آکر اس کی مدد کردی ہے تو یہ ایک قسم کا صدقہ ہے اور اللہ آپ پر روزی کے دروازے کھول دیگا اور آپ کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے آپ نے کبھی گمان بھی نہ کیا تھا۔
دوسروں کو کچھ سکھانا
رسول اللہ(ص) کی احادیث کی روشنی میں صدقہ کی ایک قسم دوسروں کو تعلیم دنیا اور کچھ اچھی چیزیں سکھانا بھی ہے۔(۶)
آپ کے پاس جو بھی علم اور فن بھی ہے آپ اسے دوسروں کو سکھائیے یہ آپ کی طرف سے ایک صدقہ شمار ہوگا ، ایسا نہیں ہے کہ اگر کسی کو آپ نے کچھ سکھایا آپ کا گھاٹا ہوجائے گا اور آپ کے وقت کی بربادی ہوگی۔ نہیں! بلکہ انسان کو دوسروں کو تعلیم دینے اور انہیں کوئی ہنر سکھانے کے معاملے میں سخاوت مند ہونا چاہیئے اور علم کو اپنے پاس ذخیرہ کرکے نہیں رکھنا چاہیئے۔
بندگان خدا کی رہنمائی کرنے اور دوسروں کو زندگی کے طور طریقوں کو سکھانے کے لئے آپ جتنی کوشش کریں گے اللہ تعالٰی آپ کے علم میں اضافہ کردے گا اور جب جب آپ کا کوئی علمی مسئلہ الجھے گا آپ کو یہ توفیق حاصل ہوجائے گی کہ آپ بغیر کسی استاد یا مطالعہ کے  اس کو حل کر سکیں گے۔
اچھی و مفید باتیں بھی صدقہ ہیں
پیغمبر اکرم(ص)  نے جناب ابوذر(رض) کو بہت سی نصیحتیں فرمائیں ہیں ان میں سے ایک نصیحت یہ بھی ہے:’’الْکَلِمَةُ الطَّیِّبَةُ صَدَقَةٌ‘‘۔(7) دوسروں کے ساتھ محبت کے ساتھ اور اچھی بات کرنا بھی صدقہ ہے۔
ہمیں چاہیئے کہ جب ہم کسی کے ساتھ باتیں کریں تو ہمارے لہجہ میں نرمی ہو اور اگر کسی نے ہم سے کوئی مشورہ طلب کیا ہے اور ہم صحیح مشورہ دے سکتے ہوں تو ضرور دیں چونکہ یہ کلمہ طیب کے مصادیق میں سے ہے اور یہ صدقہ شمار ہوگا۔
برائی کو ترک کرنا
رسول اللہ(ص) نے خود برای سے بچنے اور دوسروں کو شرارت سے بچانے کو بھی صدقہ بتلایا ہے۔(۸)
پیاسے کو پانی پلانا
امام صادق علیہ السلام کی نظر میں بہترین صدقہ کسی پیاسے کو ٹھنڈا پانی پلا کر اس کے جگر کو سکون پہونچا صدقہ ہے چنانچہ آپ کا فرمان ہے: جو شخص کسی پیاسے انسان یا حیوان کو پانی پلائے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کہ جب اللہ کے علاوہ کسی کا سایہ نہیں ہوگا سایہ عطا فرمائے گا۔(۹)
کمزور اور عقب ماندہ لوگوں کی مدد کرنا
امام کاظم علیہ السلام کی وصیت کے مطابق کسی کمزور اور عقب ماندہ انسان کی مدد کرنا بہترین صدقہ ہے۔(۱۰)
اپنے گھر والوں سے مہربانی سے پیش آنا
امام صادق(ع) سے نقل ہوا ہے کہ ایک شخص سے رسول اللہ(ص) نے دریافت فرمایا: کیا تم نے آج روزہ رکھا ہے؟ عرض کیا: نہیں ! یا رسول اللہ(ص)۔
کیا کسی مریض کی عیادت کی ہے؟ عرض کیا۔ نہیں!
فرمایا: کیا تم آج کسی کی تشیع جنازہ میں شریک ہوئے ہو؟ عرض کیا: نہیں ! فرمایا: کیا آج تم نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟ عرض کیا: نہیں ! یا رسول اللہ(ص)۔
فرمایا: اپنے گھر جاؤ اور اپنے اہل عیال کے ساتھ محبت و مہربانی کا مظاہرہ کرو کہ ایسا کرنے سے تمہیں صدقہ دینے کا ثواب ملے گا۔(۱۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1- بحارالأنوار، ج۷۵، ص۵۰
2- الخصال، ص ۱۳۴
3- الکافی، ج ۲، ص 114
4- الکافی، ج ۲، ص ۲۰۹
5- وسائل الشیعة، ج ١١، ص ٤٥٩
6- میزان الحكمة، ج ٣، ص٢٠٧٤
7- مكارم الأخلاق، ج 2، ص374
8- تحف العقول، ص57
9- عده الداعی، 63
10- بحارالانوار، ج 78، ص 326
11- ثواب الاعمال صدوق، ص 311
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین