Code : 2587 65 Hit

جاسوسی کرنے کے لیےبھی امریکیوں کو بلاتے ہیں

برطانوی میڈیا نے متحدہ عرب امارات کے خفیہ انٹلیجنس یونٹ میں وائٹ ہاؤس کے سابق عہدیداروں کے رول کا انکشاف کیا ہے۔

ولایت پورٹل:برطانوی نیوز ایجنسی رائٹرز کی  رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے کچھ سابق عہدیداروں نے متحدہ عرب امارات کے کا جاسوسی ڈھانچہ تیار کرنے میں ان کے ساتھ تعاون کیا ہے،رائٹرز نے  ایک رپورٹ میں سابق امریکی عہدہ دار رچرڈ کلارک کا نام لیا ہے جنہوں نے2008 میں اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے کے بعد متحدہ عرب امارات کے ساتھ سائبر جاسوسی میں تعاون کیا ہے،رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ممتاز امریکی انٹیلیجنس ٹھیکیداروں کو بھی  ملک کے خلاف "خطرات" کی نگرانی کرنے کے لیے مقرر کر رکھا ہے،کلارک کی خفیہ یونٹ نےتجزیہ ، استحصال ، ترقی اور تحقیق بیورو کے میدان میں کام کیا ہے کہا جاتا تھا، اس یونٹ کوانگریزی میں  ڈیریڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جس کا مطلب دہشت ، خوف ہے،رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اس کے بعد کے سالوں میں اس یونٹ میں توسیع کی اور اسے مشتبہ دہشت گردانہ کارروائیوں سے بالاتر لوگوں کا پتہ لگانے کے لئے استعمال کیا،خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم سعودی کارکن ، اقوام متحدہ کے سفارت کار اور فیفا کا عملہ اس  یونٹ کے پروگرام کا حصہ ہیں،رائٹرز نے کئی ماہ قبل اطلاع دی تھی کہ متحدہ عرب امارات نے امریکی ایجنٹوں کے تعاون سے اس پروگرام کو ایران ، قطر یا عرب صحافیوں کی جاسوسی کے لئے استعمال کیا تھا،امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے سابق افسر ، لوری اسٹوڈ نے کہا کہ اس ٹیم کے ممبران ابوظہبی کے ایک ویلا نامی علاقہ میں مقیم ہیں اور ان کا کام اپنے ہدف کے آئی فون اور کمپیوٹرزکو ہیک کرنے کے لئے امریکی انٹلیجنس کے طریقۂ کار کو استعمال کرنا ہے۔


 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین