ٹرمپ کے خلاف قانونی کاروائی ہونا چاہئے؛دس لاکھ امریکیوں کا مطالبہ

امریکہ کے توسیع طلب ایک گروپ نےا س ملک کے اٹارنی جنرل سے سابق صدر کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ولایت پورٹل:ہل نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز امریکہ کے ایک توسیع طلب گروپ نے نومنتخب امریکی اٹارنی جنرل سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا،یادرہے  مواخذہ عدالت میں ٹرمپ کے بری قراردیے جانے کے جواب میں  مہم برائے ترقی پسند تبدیلی مہم نے تقریبا دس لاکھ دستخطوں والی ایک درخواست میں گار لینڈ سے ٹرمپ اور ان کے لواحقین کے جرائم کی تحقیقات اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کیا ہے، اس گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ اگر آپ ٹرمپ کو اپنے مجرمانہ چینل کا جوابدہ بنانا چاہتے ہیں تو  آپ صرف ڈیموکریٹک رہنماؤں پر بھروسہ نہیں کرسکتے ہیں،ہمیں انہیں بہت سختی سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ  نئے امریکی صدر  جو بائیڈن  اس سے قبل اپنی انتخابی مہم میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ٹرمپ کے جرائم اور خلاف ورزیوں کے مقدمے کی سماعت وزیر انصاف کے حوالے کریں گے تاہم امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کو بری کرنے کے لئے ووٹ دینے کے باوجود ، ڈیموکریٹک اکثریتی رہنماؤں اور سینیٹ میں ریپبلکن اقلیت نے سابق امریکی صدر کو مجرم قرار دیا ، سینیٹ کے ریپبلکن سینٹ مچ میک کونل نےجنہوں نے ٹرمپ کو بری کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے ، نے کہا کہ ٹرمپ اپنے عہدے کے دور میں جو بھی کام انجام دیے  ہیں وہ ان  کے ذمہ دار ہیں،وہ ابھی کہیں دور نہیں گئے ہیں۔
 امریکی سینیٹ میں ٹرمپ کے مواخذے کے لیے منفی ووٹ دینے والے مک کانل نے اعلان کیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سابق صدر واقعی اور اخلاقی طور پر اشتعال انگیزی کے ذمہ دار ہیں اسی وجہ سے ان کے حامیوں نے  کانگریس پر حملہ کیا تھا،تاہم انھوں نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ ٹرمپ کے مواخذے کے خلاف کیوں ووٹ دیا ، ریپبلیکن سینیٹر نے کہاکہ آئین کے مطابق ، ان کا مؤاخذہ نہیں ہوسکتا  کیونکہ وہ (ٹرمپ) صدارت کے عہدے پر فائز نہیں ہیں۔

1
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین