یمن بحران کا کوئی فوجی حل نہیں:ایران

ایران کی وزارت خارجہ  نےیمن کے خلاف سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی فوجی جارحیت کے ساتویں سال کے آغاز پر  یمن کے بے گناہ عوام کے خلاف اس عظیم جرم کے تسلسل سے ناگواری کا اظہار کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ یمنی بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

ولایت پورٹل:اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی وزارت نے آج (منگل) یمن پر سعودی اتحاد کے فوجی حملے کی چھٹی برسی کے موقع پر ایک بیان جاری کیا،بیان میں کہا گیا ہےکہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی فوجی جارحیت کے ساتویں سال کے آغاز پر  اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ یمن کی بے گناہ عوام کے خلاف اس  جارحیت کے خلاف ہے اور اس عظیم جرم کے تسلسل سے ناگواری کا اظہار کرتی ہے، بیان میں مزید کہا گیاکہ آج یمن پر سعودی عرب اوراس کے اتحادیوں کی طرف سے مسلسل یلغار کے 6 سال پورے ہوئے ہیں جبکہ گذشتہ چھ سالوں کے دوران ، محاصرے اور فوجی جارحیت نے یمن میں 24 ملین افراد کو نشانہ بنایا ہے  اور روزانہ درجنوں افراد بم دھماکوں یا بھوک ، بیماریوں ، دواؤں کی کمی اور طبی مراکز میں ایندھن کی کمی کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
 بیان میں کہا گیا ہے کہ انتہائی افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ وحشیانہ جارحیت اور بزدلانہ محاصرہ ایک لمحے کے لئے بھی نہیں رک سکا ، یہاں تک کہ کوویڈ 19 کے پھیلنے کے بعد بھی،ایرانی وزارت خارجہ نےاپنے بیان میں مزید کہا کہ بلاشبہ  یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بین الاقوامی حکام کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اور حتی کہ اس غیر انسانی جارحیت کے کچھ سیاسی اور مسلح حامیوں کے نزدیک بھی جرائم میں شامل ہے جس کے خلاف قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے جو متعلقہ بین الاقوامی اداروں، آزادی اور انسانی حقوق کے تمام محافظوں کی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین