Code : 3242 86 Hit

کورونا کا مقابلہ تو دور کی بات یمنیوں کو پینے کےلیے صاف پانی بھی دستیاب نہیں

ایک طر ف کورونا وائرس سے بچنے کے لئے لگاتار ہاتھ دھونے کی مستحکم سفارش کی جارہی ہے اور دوسری طرف نصف سے زیادہ یمنیوں کی پینے کے لیے صاف پانی اور ڈٹرجنٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

ولایت پورٹل:القدس عربی کی رپورٹ کے مطابق آج کل  عالمی  صحت کے ماہرین کورونا وائرس سے  بچنے کے لئے مسلسل ہاتھوں کو دھوتے رہنے کی تاکید کررہے  ہیں لیکن ایسا  یمن کے ان لاکھوں لوگوں کے لئے ممکن نہیں ہے جن کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔
اگرچہ یمن میں ابھی تک دنیا کے دیگر ممالک کی حد تک کورونا وائرس  پھیلنےکی مقدار درج نہیں کی گئی ہے ، لیکن اس غریب ترین عرب ملک میں اس بیماری کے پھیلاؤ اور انسانیت سوز تباہی کے خدشات ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی اتحاد کے ہاتھوں پانچ سال سے یمن میں قتل وغارت مچی ہوئی ہے ،لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں ،ملک کا طبی نظام تباہی کے دہانے تک پہنچ چکا ہے،نصف سے زیادہ آبادی کو پینے کے لیے صاف پانی میسر نہیں ہے جس کے نتیجہ میں اس ملک میں دیگر ممالک کے مقابلہ میں وبا پھیلنے کے زیادہ امکانات پائے جاتے ہیں۔
سرحدوں سے عاری ڈاکٹروں کی تنظیم کے ڈائریکٹر کارلن سیگین نے القدس العربی کو بتایا کہ یمنی صاف پانی یا صابن جیسے ڈٹرجنٹ تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ جب آپ کے ہاتھ دھونے کے لئے کچھ نہیں ہے تو ہم ہینڈ واشنگ کی سفارش کیسے کرسکتے ہیں؟
یونیسف نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ یمنی جنگ کے پانچ سالوں میں ، 18ملین یمنی جن میں 9.2ملین بچے بھی شامل ہیں ،  صاف پانی اور حفظان صحت سے محروم ہیں۔
یہ اعداد وشمار اس ملک میں خوراک اور بھوک کی کمی کی وجہ سے ہونے والی اموات کے علاوہ ہیں۔


1
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम