Code : 2447 177 Hit

غصبی مکان میں کی گئی عبادتیں امام عصر(عج) کی منظور نظر نہیں ہوتیں

یہ ایک ایسے انسان کی کہانی ہے جس نے چند مرتبہ امام عصر(عج) کی زیارت کا شرف حاصل کیا اور جن کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی عبادات اور اعمال میں یہ لحاظ رکھنا چاہیئے کہ ہم اس طرح عبادت کریں جس سے ہمارے امام ہم سے راضی ہوجائیں گے۔

ولایت پورٹل: ایران کے مشہور و معروف خطیب جناب حجت الاسلام والمسلمین مسعود عالی نے اپنے ایک خطاب کے دوران فرمایا تھا کہ  پچاس سال پہلے ایران کے اسی شہر تہران میں امام زمانہ عجّل اللہ تعالی فرجہ الشریف کا ایک ایسا بھی عاشق تھا کہ میں نے نہ تو کسی بھی شخصیت کی سوانح حیات میں پڑھا اور نہ سنا کہ کوئی شخص امام زمانہ(عج)  کے اتنا قریب ہو کہ حضرت سے مزاح بھی کرے! مگر اس عاشق کے بارے میں, میں نے یہ سنا ہے۔ وہ کون ہے؟ مرحوم سید کریم محمودی تہرانی۔ مرحوم سید کریم محمودی جو کفاش (موچی) تھے۔ وہ کربلا میں دفن ہیں۔ سید کریم کفاش اپنی چھوٹی سی دوکان پر بیٹھ کر جوتے چپل سیتے تھے۔ میں جو عرض کر رہا ہوں یہ مصدقہ ہے۔ سید کریم کا کنبہ قدرے بڑا تھا اور دوکان سے کوئی خاص کمائی نہیں تھی، بڑی فقیرانہ زندگی بسر کرتے تھے۔ جس گھر میں رہتے تھے اس کا کرایہ کئی مہینے سے ادا نہیں کر پائے تھے۔ مالک مکان نے ایک دن کہا کہ سید کریم! آپ بہت اچھے انسان ہیں، لیکن اب مجھے گھر کی ضرورت ہے۔ میرے بچے بڑے ہو گئے ہیں، ہمیں بڑی جگہ چاہئے تو آپ گھر خالی کر دیجئے۔سید کریم نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ کئی مہینے کا کرایہ باقی ہے، مجھے تھوڑی مہلت دے دو!
مالک مکان نے کہا کہ نہیں سید کریم مجھے گھر واپس چاہئے اور اب میں راضی نہیں ہوں کہ آپ اس گھر میں قیام کریں۔ جیسے ہی کہا کہ: راضی نہیں ہوں، سید کریم نے کہا کہ: پھر تو میں ابھی گھر خالی کرتا ہوں کیونکہ میں وہاں نماز پڑھتا ہوں اگر مکان مالک راضی نہ ہو تو اس گھر میں پڑھی جانے والی نماز صحیح نہیں ہے۔ آقا سید کریم کفاش نے فوراً گھر خالی کردیا اور گھر کا سامان فٹ پاتھ پر رکھ کر چاروں طرف چادر کھینچ دی تاکہ گھر کی عورتیں پردے میں رہیں۔
سید کریم کفاش نے امام زمانہ(عجّل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی جو چند زیارتیں کی ہیں ان میں ایک زیارت اسی موقع پر ہوئی۔ وہ پہلے بھی امام زمانہ(عج) کو دیکھ چکے تھے اور پہچانتے تھے۔ دیکھتے ہی کہا کہ میرے مولا و آقا بہت اچھا ہوگیا کہ آپ اس وقت تشریف لے آئے۔
امام نے فرمایا کہ: سید کریم دنیا یہی ہے، انہیں مشکلات، دشواریوں اور آزمائشوں کی جگہ ہے۔
سید کریم نے کہا کہ آقا میں آپ پر اور آپ کے اجداد طاہرین(ع) پر قربان جاؤں۔ آپ نے بے پناہ مصیبتیں اٹھائیں۔ لیکن کرایہ دار ہونے کی مصیبت سے محفوظ رہے! امام مسکرا دیئے اور فرمایا کہ: سب ٹھیک ہو جائے گا۔
سب ٹھیک اس طرح ہوا کہ اسی دن شام کے وقت آقا سید مھدی خرازی جو تہران کے بڑے تاجروں میں اور نہایت خیر انسان تھے، ان کے بھائی نے، ظاہر ہے وہ  بھی ایک متمول انسان تھے، سید کریم کے لئے ایک گھر خریدلیا اور ان کا سامان اس گھر میں پہنچا دیا گیا-  
حجت الاسلام والمسلمین مسعود عالی کی تقریر سے اقتباس

 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम