کورونا کی نئی قسم کے منظرعام پر آنے سے دنیا پریشان

اومیکرون نامی کورونا وائرس کی ایک نئی قسم کی شناخت نے عالمی خدشات کو بڑھا دیا ہے اور کچھ ممالک کو صحت کے نئے اقدامات اپنانے اور کچھ پابندیاں عائد کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ولایت پورٹل:ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے ماہرین نے جمعہ کو بند کمرے میں ہونے والے اجلاس کے بعد جنوبی افریقہ میں B.1.1.529 نامی کورونا وائرس کے نئے دریافت شدہ تناؤ کے بارے میں موصول ہونے والی معلومات کا جائزہ لینے کے بعد تبدیل شدہ وائرس کو اومیکرون کا نام دیا جبکہ اس پریشان کن وائرس کی جنوبی افریقہ، بوٹسوانا، ہانگ کانگ، اسرائیل اوربیلجیئم میں نشاندہی کی گئی ہے۔
 ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اومیکرون کورونا وائرس کی دیگر اقسام کے مقابلے میں تیزی سے پھیل سکتا ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ذریعہ ڈیلٹا کی نسلوں کو پریشان کن وائرس کے طور پر درجہ بندی کرنے میں تقریباً دو ماہ لگے،تاہم اومیکرون وائرس کو شناخت کے 72 گھنٹوں کے اندر اس درجہ بندی میں شامل کیا گیا ۔
واضح رہے کہ  افریقی براعظم میں کورونا وائرس کی ایک نئی قسم کی دریافت  بڑی تشویش کا باعث بنی ہے، متعدی ایک امراض کے ماہر نے کہا کہ اس نئے وائرس کا شکارہم نے اب تک کا سب سے خطرناک اور بدترین کیس دیکھا ہے اور یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ یہ ممکنہ طور پر بائی پاس ویکسین قوت مدافعت پیدا کر سکتے ہیں۔
 ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا وائرس کی یہ نئی قسم پچھلے کیسز سے زیادہ متعدی ہے اور اس کا پھیلاؤ تشویشناک ہے، اس بیماری کی شناخت سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں ہوئی ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انفیکشن ڈیزیز (این آئی سی ڈی) نے جمعرات کو اعلان کیا کہ 22 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہےجبکہ دھیرے دھیرے ٹیسٹ کے نتائج کے اجراء کے ساتھ مزید کیسز درج کیے جارہے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین