عالمی برادری ہر طرح سے ایران کا مقابلہ کرے: سعودی وزیر کی ہرزہ سرائی

سعودی عرب کے وزیر برائے افریقی امور نے یمن میں اپنے اتحاد کے جرائم کو نظر انداز کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا ہے۔

ولایت پورٹل:سعودی سرکاری نیوز ایجنسی  واس کی رپورٹ  کے مطابق افریقی امور کے سعودی مشیر احمد بن عبد العزیز قطان نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف  اپنے ملک کی جانب سے لگائے جانے والے پرانے الزامات کا اعادہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق قطان نے مزید کہا کہ  عرب دنیا کو درپیش دہشت گردی کی سب سے خطرناک شکل میں سے ایک ایرانی حکومت کے اقدامات ، بشمول بین الاقوامی قانون ، چارٹر اور رواج کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے یمن کی تباہ کن جنگ میں سعودی عرب کے کردار کو نظرانداز کرتے ہوئے ، دعوی کیا کہ ایران عرب ممالک کی سلامتی اور استحکام کے لئے خطرہ ہے کیونکہ یہ  ان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتاہے۔
مذکورہ سعودی عہدے دار نے دعوی کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایسے  مسلح گروہوں کی حمایت کرتا ہے جو متعدد عرب ممالک میں انتشار اور تباہی کا باعث بنے ہیں۔
یادرہے کہ یہ الزام ایسے وقت میں عائد کیا گیا ہے جبکہ سعودی عرب نے دوسری خلیجی ریاستوں کے ساتھ مل کر سوڈان سے کرائے کے فوجی بھرتی کرکے یمنی قوم کے خلاف جارحیت میں استعمال کیے ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی عرب حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس سلسلہ میں یمنی قیدیوں کی کمیٹی کے چیئرمین عبدالقادر المرتضی نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب نے یمنی قیدیوں کے ساتھ سوڈانی فوجی لاشوں کے تبادلے کی مخالفت کی ہے۔
قطان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس وقت  عرب دنیا کا مقابلہ ایسی  انتہا پسندی سے ہے جس کی وجہ سے ہزاروں بے گناہ افراد  قتل ہوئے ہیں  اور اس نے انتشار اور تباہی پیدا کردی ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین