Code : 3114 19 Hit

سعودی فوج کی کمزوریاں اس ملک کی سلامتی کے لیے چیلنج

سعودی عرب کے بڑے پیمانے پر اسلحہ خانے کے باوجود یمن کی جنگ اور انصاراللہ کے سعودی عرب پر حملوں خصوصا پچھلے ستمبر کے مہینے میں ارامکو کے تیل کی تنصیبات پر حملے نے اس کے فوجی ڈھانچے کی کمزوریوں کو اجاگر کردیا ہے۔

ولایت پورٹل:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشہور جملے کو بار بار دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ، میں نے آپ کو (سعودیوں) کو متعدد بار بتا چکا ہوں  کہ آپ حقیقت میں ایک متمول ملک کے مالک  ہیں  اور اگر آپ مزید فوج چاہتے ہیں تو ہم آپ کو دیں  گے لیکن آپ کو اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔
ٹرمپ کی ان باتوں سے پتا چلتا ہے کہ  واشنگٹن سعودی عرب کی کمزوری سے بخوبی واقف ہے۔
یہی وجہ ہے سعودی عرب امریکی سیاسی بلیک میلنگ کا شکار ہوجاتا ہے اور امریکہ نے تھوڑے تھوڑے عرصہ بعد ایران کا مقابلہ کرنے کے بہانے ہزاروں  کی بعد میں اپنے فوجی اور میزائل دفاعی نظام  سعودی عرب بھیج دیتا ہے جس سے سعودی فوج کی اپنے ملک کی  سلامتی کی حفاظت کرنے کی صلاحیت کے سلسلہ میں متعدد سوالات اٹھتے ہیں۔
امریکی ویب سائٹ گلوبل فائر پاور جو عالمی افواج کی صلاحیتوں کا مشاہدہ کرنے میں مہارت رکھتی ہے، کے مطابق سعودی عرب کے پاس لگ بھگ230000 فوجی ہیںجو بڑے اور نفیس اور پیشرفتہ ترین ہتھیاروں نیز رسد کی سہولیات سے لیس ہیں ،اس فوج کا تقریبا 70 ارب ڈالر کا بھاری بجٹ ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کی فوج عرب دنیا کی دوسری اور دنیا میں سترہویں نمبر پر ہے نیزدنیا کی چوتھی بڑی بکتر بند فوج ہے۔
سعودی عرب کو 2014سے لے کر2018 تک دنیا میں ہتھیاروں کا سب سے بڑا درآمد کنندہ بھی تسلیم کیا گیا ہے۔
اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود سعودی فوج زمینی افواج میں نمایاں کمزوریوں کا شکار ہے ، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس کی افواج تربیت ، تجربے اور ہتھکنڈوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے زمینی کارروائیوں کے انتظام میں کمزور ہیں اور اس کی وجہ سے یہ ملک اپنے بنیادی ڈھانچہ  کو محفوظ بنانے کے لئے نیز یمن جنگ میں  امریکہ سے آنے والے یا اپنے اتحادی ممالک کے کرائے کے فوجی استعمال کرتا ہے۔
 


1
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین