Code : 2816 36 Hit

قرآن مجید میں حضرت فاطمہ(س) کے فضائل

تفسیر فرات کوفی میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ "انا انزلناہ فی لیلۃ القدر" میں "لیلۃ" سے مراد فاطمہ زہرا(س) کی ذات گرامی ہے اور "القدر" ذات خداوند متعال کی طرف اشارہ ہے ۔لہذا جسے بھی فاطمہ زہرا(س) کا حقیقی عرفان حاصل ہوگیا اس نے لیلۃ القدر کو درک کر لیا ،آپ کو فاطمہ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ لوگ آپ کی معرفت سے عاجز ہیں۔

ولایت پورٹل: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا وہ عظیم خاتون ہیں جن کی حقیقی معرفت معصومین(ع) کے پاس ہے جس کا حصول فقط قرآنی آیات اور احادیث معصومین(ع) کے سایہ میں ہی ممکن ہے ۔لہذا ایسی شخصیت کی حقیقی معرفت کا دعویٰ فقط انسان کامل ہی کر سکتا ہے۔
حضرت فاطمہ زہرا(س) عالم اسلام کی ایسی با عظمت خاتون ہیں جنکی فضیلت زندگی کے ہر شعبہ میں آشکار ہے اور عظمتوں کے اس سمندر کی فضلیتوں کو قرآنی آیات اور معصومین(ع) کی روایات میں بارہا بیان کیا گیا ہے۔
حضرت زہرا(س) کے فضائل کے بیان میں بہت زیادہ روایتیں وارد ہوئی ہیں لیکن ہم فقط ان احادیث کو بیان کریں گے جو قرآنی آیات کی تفسیر کے طور پر وارد ہوئی ہیں یا آیت کے شان نزول کو بیان کرتی ہیں جبکہ یہ روایات فقط فضائل کے چند گوشوں کو بیان کرتی ہیں۔
فاطمہ کی معرفت لیلۃ القدر کا ادراک
تفسیر فرات کوفی میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ "انا انزلناہ فی لیلۃ القدر" میں "لیلۃ" سے مراد فاطمہ زہرا(س) کی ذات گرامی ہے اور "القدر" ذات خداوند متعال کی طرف اشارہ ہے ۔لہذا جسے بھی فاطمہ زہرا(س) کا حقیقی عرفان حاصل ہوگیا اس نے لیلۃ القدر کو درک کر لیا ،آپ کو فاطمہ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ لوگ آپ کی معرفت سے عاجز ہیں۔
دین قیم
کتاب البرہان فی تفسیر القرآن(تألیف سید ہاشم بحرانی) میں سورۂ بینہ کی پانچویں آیت کی تفسیر میں امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ اس آیت میں دین قیم سے مراد  حضرت فاطمہ (س) ہیں۔
شریعت کے سارے اعمال بغیر محمد و آل محمد (ع) کی ولایت کے باطل و بیکار ہیں اور روایات میں اس بات کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ دین کا استحکام فاطمہ(س) اور ان کی ذریت کی محبت سے ہے ۔یہی وجہ ہے کہ دین قیم کی تفسیر آپ کی ذات گرامی سے کی گئی ہے۔
آسمانی گھر
علامہ مجلسی(رہ) انس بن مالک اور بریدہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے سورہ نور کی ۳۷ویں آیت کی تلاوت فرمائی" فی بیوت اذن الله ان ترفع و یذکر اسمه یسبح له فیها بالغدو والاصال" تو ایک شخص کھڑا ہوا اور رسولخدا(ص) سے دریافت کیا :یا رسول اللہ یہ گھر کس کا ہے ؟فرمایا : انبیاء علیہم السلام کا گھر ہے ،ابو بکر کھڑے ہوئے اورحضرت علی علیہ السلام کے گھر کی جانب اشارہ کر کے پوچھا :کیا یہ گھر بھی انھیں گھروں جیسا ہے ؟حضرت نے فرمایا: بیشک! بلکہ ان میں سب سے افضل و برتر ہے۔
عذاب و لعنت دشمنان زہر(س) کا مقدر
تفسیر قمی میں سورۂ احزاب کی ۵۷ ویں آیت کے ذیل میں وارد ہوا ہے:"ان الذین یوذون الله و رسوله لعنهم الله فی الدنیا و الاخره و أعد لهم عذاباً مهینا"۔یقیناً جو لوگ خدا اور اس کے رسول کو ستاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں خدا کی لعنت ہے اور خدا نے ان کے لئے رسوا کن عذاب مہیاّ کر رکھا ہے۔
علی بن ابراہیم قمی (رہ) فرماتے ہیں کہ کہ یہ آیت علی و فاطمہ علیہما السلام کے حق کے غاصبوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے نیز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ فرمایا:جو بھی ہماری زندگی میں زہرا کو اذیت پہنچائے گویا میرے مرنے کے بعد بھی اس نے زہرا کو اذیت دی ہے اور جو بھی میری رحلت کے بعد زہرا کو اذیت دے گویا اس نے میری زندگی میں زہرا کو اذیت دی ،اور جس نے فاطمہ کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت پہونچائی ،جس نے مجھے اذیت دی اس نے خدا کو اذیت دی اور خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے : یقیناً جو لوگ خدا اور اس کے رسول کو ستاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں خدا کی لعنت ہے اور خدا نے ان کے لئے رسوا کن عذاب مہیاّ کر رکھا ہے۔
امر الٰہی کی پیروی
امام صادق علیہ السلام اپنے اجداد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت زہرا(س) نے فرمایا:جس وقت سورہ نور کی ۶۴ ویں آیت:"لاتجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضاً" (ترجمہ : جس طرح تم ایک دوسرے کو پکارتے ہو پیغمبر اکرم (ص) کو اس طرح سے مت آواز دو) نازل ہوئی ہم نے پیغمبر اکرم(ص) کو بابا کہنا چھوڑ دیا اور یا رسول اللہ کہہ کر خطاب کرنے لگی ،پیغمبر اکرم (ص) نے مجھے فرمایا :بیٹی فاطمہ یہ آیت تمہارے اور تمہاری آنے والے نسلوں کے لئے نازل نہیں ہوئی ہے چونکہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ،بلکہ یہ آیت متکبر اورظالم قریش کے لئے نازل ہوئی ہے۔ تم مجھے بابا کہہ کر پکارا کرو چونکہ یہ کلمہ میرے دل کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے اور اس سے خداوند عالم راضی ہوتا ہے ،یہ کہہ کر میرے چہرے کا بوسہ لیا۔
اجرت رسالت
سورہ شوریٰ کی ۲۳ویں آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اے میرے رسول آپ امت سے کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقرباء سے محبت کرو"۔ ابن عباس سے روایت ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی پیغمبر سے سوال کیا گیا ،جن لوگوں سے محبت و مودت کا ہمیں حکم دیا گیا ہے وہ کون ہیں؟ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا : علی ،فاطمہ اور ان کے دو فرزند مراد ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम