Code : 1359 44 Hit

روزہ کے بارے میں نازل ہونے والی آیات

قرآن مجید کی وہ آیات جن میں صبر اور نماز سے مدد طلب کرنے کی تأکید کی گئی ہے ان میں صبر سے مراد بھی روزہ ہی ہے۔ جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے: صبر سے مراد روزہ ہے پس اگر کسی شخص پر کوئی سختی یا مشکل گھڑی آجائے تو اسے روزہ رکھ لینا چاہیئے چونکہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے: کہ صبر سے مدد حاصل کرو! یعنی روزہ سے۔

ولایت پورٹل: روزہ فارسی زبان کا لفظ ہے اور وہیں سے ہماری زبان اردو میں آیا ہے جبکہ عربی ڈکشنری میں روزہ کو’’صوم یا صیام‘‘ کہتے ہیں۔پورے قرآن مجید میں یہ مادہ’’Infinitive ‘‘ اپنے مختلف مشتقات کے ساتھ ۱۴ ۱۱ آیات میں ذکر ہوا ہے۔ کہ جن میں سے ایک آیت تو خود روزہ کے حکم اور قانون کو بیان کرنے کے ساتھ امت محمدی(ص) کو یہ بھی بتلانا چاہتی ہے کہ روزہ صرف تم ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ تم سے پہلے والے لوگ اور امتیں بھی روزہ رکھا کرتی تھیں اور ساتھ میں اس آیت میں روزہ کے اہم مقصد(تقوا) کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيامُ كَما كُتِبَ عَلَي الَّذينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُون‘‘۔ (1)
ترجمہ: اے ایمان والو! روزہ اس طرح تم پر لکھ دیا گیا ہے (فرض کر دیا گیا ہے) جس طرح تم سے پہلے والوں پر لکھ دیا گیا تھا۔ تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔
ایک دوسری آیت میں ان لوگوں کے متعلق حکم بیان ہوا جو روزہ رکھنے سے معذور ہیں جیسا کہ مریض،مسافر،اور کمزور افراد وغیرہ نیز روزہ کے غیر عمدی کفارہ کا تذکرہ بھی ہوا’’... فَمَنْ كانَ مِنْكُمْ مَريضاً أَوْ عَلي‏ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَ عَلَي الَّذينَ يُطيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعامُ مِسْكين...‘‘۔(2)
ترجمہ: اگر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو جائے یا سفر میں ہو۔ تو اتنے ہی دن دوسرے دنوں میں روزے رکھے۔ اور جو اپنی پوری طاقت صرف کرکے بمشکل روزہ رکھ سکتے ہوں تو وہ فی روزہ ایک مسکین کی خوراک فدیہ ادا کریں۔
اور پھر اسی آیت کے اگلے حصہ میں تذکرہ ہوتا ہے کہ روزہ رکھنا بہرحال تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم اس مسئلہ کو درک کرلو:’’ وَ أَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُون‘‘۔اور اگر تم (فدیہ دینے کی بجائے) روزہ رکھو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔
اور اس کے بعد ایک جگہ ماہ رمضان المبارک میں روزوں کے واجب ہونے  اور معذور ،مسافر اور مضطر افراد کو روزے کو چھوڑنے کی چھوٹ دیتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:’’ شَهْرُ رَمَضانَ الَّذي أُنْزِلَ فيهِ الْقُرْآنُ هُديً لِلنَّاسِ وَ بَيِّناتٍ مِنَ الْهُدي‏ وَ الْفُرْقانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَ مَنْ كانَ مَريضاً أَوْ عَلي‏ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَر...‘‘۔(3)
ترجمہ: ماہ رمضان وہ (مقدس) مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں راہنمائی اور حق و باطل میں امتیاز کی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جو اس (مہینہ) میں (وطن میں) حاضر ہو (یا جو اسے پائے) تو وہ روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو اتنے ہی روزے کسی اور وقت میں (رکھے)۔
اس آیہ کریمہ کے اگلے حصہ میں اللہ تعالٰی نے روزہ کے فلسفہ اور مقصد کو بیان کیا ہے:’’يُريدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لا يُريدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلي‏ ما هَداكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُون‘‘۔
اللہ تمہاری آسانی و آسائش چاہتا ہے تمہاری تنگی و سختی نہیں چاہتا اور یہ بھی (چاہتا ہے) کہ تم (روزوں کی) تعداد مکمل کرو۔ اور اس (احسان) پر کہ اس نے تمہیں سیدھا راستہ دکھایا تم اس کی کبریائی و بڑائی کا اظہار کرو۔ تاکہ تم شکر گزار (بندے) بن جاؤ۔
ایک اور مقام پر روزہ کے کچھ احکام کو قرآن مجید نے بیان کیا جن میں شب ماہ رمضان میں بیوی کے ساتھ ہمبستری کی طرف اشارہ ہوا ہے:’’أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيامِ الرَّفَثُ إِلي‏ نِسائِكُم...‘‘۔(4)
(اے مسلمانو) روزوں کی رات تمہارے لئے اپنی عورتوں سے مباشرت کرنا حلال کر دیا گیا ہے۔
اور اسی آیت کے آخری حصہ میں روزہ رکھنے کی مدت اور وقت کو معین کیا گیا ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص کب تک کھانے پینے کا مجاز ہے:’’وَ كُلُوا وَ اشْرَبُوا حَتَّي يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيامَ إِلَي اللَّيْل...‘‘۔ اور (رات کو) کھاؤ پیؤ۔ یہاں تک کہ صبح کا سفید ڈورا (رات کی) سیاہ ڈوری سے الگ ہو کر ظاہر ہو جائے پھر رات تک روزہ کو پورا کرو۔
غرض قرآن مجید کی دیگر کچھ آیات میں ماہ رمضان المبارک کے علاوہ بھی کچھ واجب روزوں کا ذکر آیا ہے جیسا کہ وہ روزے جو کفارہ کے طور پر انسان پر واجب ہوجاتے ہیں جن میں سے پہلے نمبر پر وہ روزے ہیں جو حج کی قربانی نہ کرنے کے عوض کفارہ کے طور پر حاجی پر واجب ہوتے ہیں۔(5) یا حج میں قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈوا لینا کے کفارے کے روزے۔(6) ان جانے اور خطا سے کسی کو قتل کردینا  جبکہ کسی باایمان غلام کی آزادی پر قادر نہ ہو تو معین مقدار میں روزہ رکھے گا۔ (7) قسم توڑنے کا کفارہ کے عوض روزے۔ (8) حال احرام میں شکار کرنا کا کفارہ (9) ظہار کا کفارہ وغیرہ(10) یہ وہ سب روزہ ہیں جو ماہ رمضان کے علاوہ ایک مسلمان پر واجب ہوسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ قرآن مجید کی کچھ آیات میں روزہ داروں کی صائمين و صائمات (11)  سائحون (12) اور سائحات (13) کہہ کر تعریف و تمجید کی گئی ہے اور انہیں مغفرت و جنت کی بشارت دی گئی ہے۔
آخری بات یہ کہ قرآن مجید کی وہ آیات جن میں صبر اور نماز سے مدد طلب کرنے کی تأکید کی گئی ہے ان میں صبر سے مراد بھی روزہ ہی ہے۔ (14) جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے: صبر سے مراد روزہ ہے پس اگر کسی شخص پر کوئی سختی یا مشکل گھڑی آجائے تو  اسے روزہ رکھ لینا چاہیئے چونکہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے: کہ صبر سے مدد حاصل کرو! یعنی روزہ سے۔ (15)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔بقره:183۔
2۔بقرہ: 184۔
3۔بقرہ: 185۔
4۔بقرہ: 187۔
5۔بقرہ:196۔
6۔بقرہ:196۔
7۔نساء: 92۔
8۔مائده:89۔
9۔مائده:95۔
10۔مجادله:3 و 4۔
11۔احزاب:35۔
12۔توبه:112۔
13۔تحريم:5۔
14۔بقره:45۔
15رجوع کیجئے:عروسي حويزي، عبد علي بن جمعه، نور الثقلين، قم، اسماعيليان، 1415ق، ج 1، ص 76).


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम