امریکی کانگریس پھر سے حملہ کا خطرہ؛5000 فوجی تعینات رہیں گے

امریکی کانگریس کی پولیس نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کے بعد نیشنل گارڈ کے کئی ہزار فوجیوں کا واشنگٹن ڈی سی میں رہنے کا فیصلہ  کیا ہے اس لیے کہ اس عمارت پر 4 مارچ کو دوبارہ حملہ کیا جاسکتا ہے۔

ولایت پورٹل:امریکی کانگریس  کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین ایڈم اسمتھ نے جمعرات کی صبح کہا کہ نیشنل گارڈ کے 5 ہزار فوجی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے حملے کے خدشات کے پیش نظر واشنگٹن میں موجود رہیں گے،انھوں نے کہا کہ ان میں سے کچھ لوگوں کو معلوم ہوا کہ تقریبا 75 سال پہلے امریکی صدر کی حلف براداری کی تقریب ہوئی تھی لہذا ان کا کہنا ہے کہ انہیں 4 مارچ کو جمع ہونا چاہئے اور کانگریس پر حملہ کرنا چاہئے، یہی بات آن لائن میڈیا میں جاری ہے ۔
ایڈم کا کہنا تھا اس طرح کی باتیں ہمیشہ ہوتی رہتی ہیں تو  کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ واقعات رونما بھی ہوتے ہیں؟" شاید نہیں ، لیکن اگر آپ مدد کرنا چاہتے ہیں تو  انہیں بتائیں کہ ایسا نہ کریں،  انہیں بتائیں کہ الیکشن ختم ہوگیا ہے، جو بائیڈن جیت چکے ہیں،انتخابات منصفانہ اور آزاد تھے،یادرہے کہ  امریکی فوجی عہدیداروں نے بدھ کی شام سی این این کو بتایا کہ امریکی کانگریس کی پولیس نے نیشنل گارڈ کے 4900 فوجیوں کو 12 مارچ تک واشنگٹن میں رہنے کی درخواست کی تھی  اور پینٹاگون قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر واشنگٹن میں فوجیوں کی موجودگی بڑھانے کے لئے کام کر رہا ہے۔
کانگریس کی پولیس نے نیشنل گارڈ کی مسلسل موجودگی اور کانگریس پر ایک اور حملے کے امکان کے بارے میں تفصیلات اور وجہ کے بارے میں سی این این کے سوالوں کا جواب نہیں دیا ، تاہم کچھ دن پہلے  امریکی ایوان نمائندگان کے متعدد سینئر ریپبلیکن ممبران نے مقننہ کے سربراہ کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ کانگریس کے سابق پولیس چیف کی فورس  بھیجنے کے لئے  مدد کی درخواست کا جواب نہ دیے جانے کی وجہ بتائیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین