ٹرمپ کے حامیوں کی مسلح بغاوت کا خطرہ

ریاستہائے متحدہ میں نئی انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے ایک مہینے کے بعد اور سابق صدر اور ان کے حامیوں کے غصے اور ناراضگی میں کمی نہیں آئی  جس کے بعد اس ملک میں مزید بدامنی پیدا کرنے کی ان کی منصوبہ بندی کا امکان بڑھ گیا ہے۔

ولایت پورٹل:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رشتہ داروں اور ان کے حامیوں میں بڑھتے ہوئے تشدد نے یہ سوال کھڑا کیا ہے کہ کیا کانگریس پر حملے جیسا واقعہ پھر سے پیش آنے والے ہے، ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے اتوار کے روز ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کورونا پابندیوں کے تسلسل کی مخالفت کی، تاہم ان کے بیان  سے زیادہ جس چیز نے اس کی توجہ حاصل کی وہ ان کے پیچھے دیوار پر لگا ہوا آتشیں اسلحہ تھا، انڈیپنڈینٹ  اخبار کی رپورٹ کے مطابق  اس ویڈیو پیغام میں سابق امریکی صدر کے بڑے بیٹے نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف احتیاطی تدابیر پر زبانی طور پر حملہ کرکے سائنس کی پیروی کے بارے میں نئی امریکی حکومت کے نعرے کا مذاق اڑایا اور کہا کہ سائنس پر عمل کریں!جوہم کرتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے اپنے پیغام میں کہا بائیڈن کی حکومت سائنس کی پیروی صرف اسی وقت کرتی ہے جب اس کے فائدے میں ہو، انہوں نے امریکن اساتذہ یونین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسکولوں کے دوبارہ کھلنےکو روک دیا ہے اور طلباء کو اسکول جانے سے روک دیا ہے، سابق امریکی صدر کے بیٹے نے اساتذہ کی یونین کے اقدام کو سائنس کی ناکامی کہا اور ان کے اقدام کو سیاسی قرار دیا،اس ویڈیو میں ٹرمپ کے بڑے بیٹے کے پیچھے دیوار پر لگی ہتھیاروں کی قطاروں کو سائبر اسپیس میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
 ایک ٹویٹر صارف نے ٹرمپ کے بیٹے کی زبان میں لکھا ہےکہ  میرے لیے طاقت ور دکھانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ پس منظر میں مہلک ہتھیاروں اور دھمکی آمیز خطرہ دکھا کر اپنے تبصرے پوسٹ کیے جائیں،اس طرح میں اپنی اعلی طاقت ظاہر کرتا ہوں، ایک اور صارف نے امریکی اسکولوں میں معمول کی فائرنگ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ یہ گندگی بندوقوں سے بھری دیوار کے سامنے کھڑی اساتذہ کی یونین کے بارے میں بات کر رہی ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین