Code : 3152 208 Hit

عصر جاہلیت میں عورتوں پر ظلم و ستم کی داستان آیت اللہ خامنہ ای کی زبانی

تعلیمات انبیاء(ع) کے علاوہ، مردو زن کے سلسلہ میں جتنے بھی افکار و نظریات اور تحلیل و تجزیے پائے جاتے ہیں وہ غلط ہیں اور ان میں پیش کی گئی مرد وزن کے درمیان نسبت بھی سراسر غلط ہے۔ یہاں تک کہ قدیم زمانہ کے روم و ایران جیسے عالی شان تمدن میں بھی عورت کے سلسلہ میں غلط تصور پایا جاتا تھا۔

ولایت پورٹل:حضور اکرم(ص) ایسے سماج میں مبعوث ہوئے جہاں لوگ عورتوں اور لڑکیوں پر ظلم کیا کرتے تھے ۔قرآن مجید کی آیتوں نے مختلف بیانات کے ذریعہ یہ کوشش کی کہ اس غلط عادت کا خاتمہ ہوجائے۔
تاریخ بشریت میں عورتوں کے مقام و منزلت کے بارے میں غلط آراء و نظریات اور بے بنیاد نقد و تبصروں پر     مجھے تعجب ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ تاریخ میں ہمیشہ مرد و زن کے سلسلہ میں کج فکری سے کیوں کام لیا گیا؟تعلیمات انبیاء(ع) کے علاوہ، مردو زن کے سلسلہ میں جتنے بھی افکار و نظریات اور تحلیل و تجزیے پائے جاتے ہیں وہ غلط ہیں اور ان میں پیش کی گئی مرد وزن کے درمیان نسبت بھی سراسر غلط ہے۔ یہاں تک کہ قدیم زمانہ کے روم و ایران جیسے عالی شان تمدن میں بھی عورت کے سلسلہ میں غلط تصور پایا جاتا تھا۔
اسی طرح سابق زمانے میں بادشاہی دور میں حرام سراؤں کا وجود عورتوں کی توہین کی علامت تھی۔ چنانچہ    ساسانی بادشاہوں کے حرام سراؤں کی داستانیں آپ نے سنی ہوں گی۔تمہارے پاس حرمسرا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ حرمسرا رکھنے کا مطلب عورت کی توہین ہے۔ مرد اپنی قدرت و طاقت کی بنیاد پر ہزاروں عورتوں کو اپنے حرمسرا میں رکھنے کا حقدار سمجھتا ہے۔ اگر اس بادشاہ کی رعیت بھی وہی قدر ت و طاقت رکھتی تو ان میں سے ہر ایک اپنے حرمسرا میں اپنی توانائی کے مطابق ہزار، پانچ سو، چار سو یا دو سو عورتیں رکھتا۔ یہ بات عورتوں کے سلسلہ میں کیسی فکر و نظر کی عکاسی کررہی ہے؟


1
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین