Code : 1633 40 Hit

آل سعود،تکفیریت اور استعمار کے اتحاد کی کہانی(3)

کون نہیں جانتا کہ جہاں بھی آج مسلمان ہیں ان کا آج یہی اسرائیلی یہودی قتل عام کررہے ہیں اس کے باوجود یہ وہابی ان سے ہر طرح کے معاملات انجام دے رہے ہیں اس لئے علماء کی ذمہ داری ہے کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے غاصب اسرائیل سے آل سعود کی دوستی کا پردہ فاش کرتے ہوئے ان کی منافقت کو سب کے لئے عیاں کرنا چاہیئے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے گذشتہ دو آرٹیکلس میں آل سعود،تکفیریت اور استعمار کے اتحاد کے کہانی کو مختصر طور پر عرض کرتے ہوئے یہ گذارش کی تھی کہ محمد بن عبدالوہاب نے اپنے مذہب کو پھیلانے کے لئے کس طرح تشدد کا مظاہرہ کیا اور کس طرح مسلمانوں کی ناموس کی بے حرمتی کی آئیے آج کی اس کڑی میں آل سعود کی بوڑھے سامراج برطانیہ سے تعلقات کے متعلق کچھ گفتگو ہوجائے۔ نیز اس سلسلہ کو ابتداء سے پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
آل سعود،تکفیریت اور استعمار کے اتحاد کی کہانی(2)
گذشتہ سے پیوستہ:
آل سعود کا برطانوی سامراج سے معاہدہ
آل سعود نے اپنی حکومت کو باقی رکھنے کے لئے سامراجیت کے سرغنہ برطانیہ سے ایک معاہدہ کیا۔ چنانچہ 1328 ہجری میں عبدالعزیز ابن سعود نے کویت میں برطانیہ کے سفیر ویلیم سے ملاقاتیں شروع کیں اور تیسری ملاقات کے بعد ابن سعود نے امت اسلامیہ کی کمر میں زہریلا خنجر گھونپتے ہوئے برطانیہ کے سامنے یہ پیش کش رکھی کہ نجد اور الاحساء شہر کو عثمانی حکومت سے ہتھیانے کا بہترین موقع یہی ہے۔ اس طرح یہ ایک بُرا معاہدہ انجام پایا کہ برطانیہ نجد اور الاحساء میں ریاض کے حاکم کی حمایت کرے گا اور عثمانی حکومت کی طرف سے زمینی اور دریائی حملوں کی صورت میں عبدالعزیز کی حکومت کی مدد کرے گا اور علاقہ میں آل سعود کی  حکومت کے باقی رہنے کے لئے کوشش کرتا رہے گا۔ عبدالعزیز نے اس کے بدلے میں یہ وعدہ کیا کہ وہ برطانیہ کی رضامندی کے بغیر کسی ملک سے بات چیت کرنے اور اس سے تعلقات بڑھانے کا خواہاں نہیں ہوگا۔
غرض! یہ معاہدہ نجد اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر نافذ ہوا اور اسی طرح آہستہ آہستہ برطانوی سامراج کا خطے میں اثر بڑھتا گیا ۔برطانوی حکومت کی دلی آرزو یہ تھی کہ پہلی عالمی جنگ کے بعد یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کے بڑے حصہ بلکہ پوری عرب ریاستوں میں نافذ ہوجائے ۔سن 1362 ہجری میں عبدالعزیز نے جمعہ کے خطبہ میں کہا کہ یہاں پر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ جس نے مخلوق کا شکریہ ادا نہیں کیا اس نے اللہ کا بھی شکریہ ادا نہیں کیا۔ اس کے بعد برطانوی حکومت کی مدح و سرائی شروع کردی کہ انہوں نے حاجیوں کے سفر حج میں سہولت کے مد نظر پانی کے جحازوں کا انتظام کردیا، انہوں نے ہمارے ملک کی مالی امداد کی اور روز مرہ کے استعمال کی چیزیں ہمیں مہیا کرائیں جن کی ہمیں سخت ضرورت تھی۔ چنانچہ شہید مغنیہ کہتے ہیں کہ ہر چھوٹا بڑا اس بات کو جانتا ہے کہ برطانیہ اور دوسری سبھی سامراجی طاقتوں کا انسانیت کے لئے کسی طرح کا سہولیاتی کام کرنا ممکن ہی نہیں ہے اور اگر کسی ملک یا کسی قوم کے حق میں یہ کوئی کام کریں تو سمجھ لیجیئے کہ اس ملک یا اس قوم کا زوال قریب آچکا ہے اور وہ ایک دن اس کی غلام بن جائے گی چونکہ سامراجی طاقتیں کبھی کسی کا بھلا نہیں کرتیں بلکہ ازل سے ان کا مقصد ہی انسانیت کا خون چوسنا ہے اور یہ کسی کو فائدہ نہیں پہونچا سکتے۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ حقیقت میں عبد العزیز کو نہیں پتہ تھا کہ وہابی اصول کے خلاف وہ عمل کررہا ہے بھلا جو مذہب(وہابیت) یہ اجازت نہیں دیتا کہ پیغمبر اکرم(ص) کی قبر مطہر کے سامنے کھڑا ہوکر نماز پڑھ لی جائے اور اگر کوئی نماز پڑھ لے تو کافر ہے  اور ان کے حساب سے اللہ کی نماز میں اس کا ولی یا نبی شامل ہوجائے گا  تو نہ جانے اسے کہاں سے اپنے مطلب کی اور عوام کو دھوکہ دینے کے لئے یہ حدیث یاد آگئی کہ جو مخلوق کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکریہ ادا نہیں کرتا۔لیکن آل سعود کی ماری حلال ہے۔ وہابیوں کی  نظر میں شریعت خدائی مصلحتوں اور مفاسد کا نام نہیں بلکہ حکام  کے مصالح و مفاسد کا خیال رکھنے کا نام ہے۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں برطانیہ کے کمزور ہوجانے کے بعد اس کی جگہ سامراجیت کا ایک نیا چہرہ امریکہ کی صورت تخت پر بیٹھ گیا۔ اسی وقت عالمی سطح پر کچھ تبدیلیاں شروع ہوئیں جو آل سعود کے تو مکمل طور پر حق میں تھیں لیکن مسلمانوں کو اس کا بڑا نقصان ہوا چونکہ پہلی عالمی جنگ کے بعد اور عثمانی حکومت کے خاتمہ اور جرمن کے ٹکڑے ہونے کے بعد اب عرب سے ترکی کا عمل دخل ختم ہوچکا تھا اور صرف برطانیہ کا اس پر قبضہ باقی بچا اور اسی برطانیہ کے اشارے پر 1343 ہجری میں آل سعود کے بادشاہ عبد العزیز نے حجاز پر حملہ کرکے طائف کو محاصرے میں لے لیا اور پھر زبردستی شہر میں گھس کر 2 ہزار لوگوں کا قتل عام کرڈالا کہ جن میں بہت سے علماء اور صاحبان شرف لوگ بھی تھے اور انہوں نے اپنی دیرینہ عادت کے مطابق شہر کو لوٹا اور تاراج کیا اور وہ مظالم ڈھائے کہ جن کے تذکرے سے ہی انسان کی روح کانپ جاتی ہے۔
طائف کی جنگ کے بعد عبد العزیز کے لئے حجاز کا راستہ بالکل صاف ہوگیا اور برطانوی حکومت چاہتی تھی کہ مکہ کے حاکم شریف حسین اور اس کے بیٹوں سے چھٹکارا پایا جائے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کا بہترین راستہ عرب کے لوگوں کو آپس میں ٹکرانا اور لڑوانا تھا۔ چنانچہ برطانیہ نے آل سعود کو مکہ کا قبضہ دلوانے اور شریف حسین اور ہاشمی خاندان کی جگہ حکومت دلوانے کے لئے ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا جیسا کہ مالی امداد دینا،فوجی حمایت کرنا وغیرہ۔چنانچہ شریف حسین کی حالت اتنی بری ہوگئی تھی کہ وہاں کے بڑے بڑے علماء اور تاجروں نے ابن سعود کو خوش کرنے کے لئے انہیں حکومت سے بے دخل کردیا  اور اس طرح آل سعود کی وہابی فوج بغیر کسی مزاحمت کے مکہ شہر میں داخل ہوگئی اور ابن سعود نے وہاں کے علماء سے ملاقات کرکے انہیں وہابی افکار کے اپنانے اور پھیلانے پر مجبور کردیا۔
ظاہر ہے عبد العزیز کو بظاہر یہ جتنی بھی کامیابی ملی تھی وہ وہابیت کے تعصب آمیز اور فرقہ وارانہ پرچم کے سائے میں تھی لہذا اس نے وہابی علماء کو خوش کرنے کے لئے شہر مکہ، مدینہ اور جدہ میں موجود عظیم اسلامی آثار کو مٹانے کی ٹھان لی۔چنانچہ مکہ میں موجود حضرت عبدالمطلب،حضرت ابوطالب،ام المؤمنین حضرت خدیجہ کے علاوہ پیغمبر اکرم(ص) کی جائے ولادت کہ جو ایک عظیم زیارت گاہ تھی، کو مسمار کروا دیا اور پھر اس کے بعد جب مدینہ شہر میں اس نے اپنے گھناونے منصوبے کو نافذ کیا تو سب سے پہلے حضرت حمزہ نامی مسجد اور مدینہ شہر کے باہر بہت سارے زیارتی مقامات کو مسمار و منہدم کرڈالا۔
علی وردی کا بیان ہے کہ جنت البقیع مدینہ میں پیغمبر اکرم(ص) کے دور اور اس سے بھی پہلا قدیمی ترین قبرستان تھا جہاں رسول اللہ(ص) کے چچا حضرت عباس،حضرت عثمان بن مظعون،آنحضرت(ص) کی کئی بیویاں،بہت سے صحابہ،تابعین و تبع تابعین اور چار اماموں(امام حسن،سجاد،باقر اور جعفر صادق(ع) کی قبریں تھیں۔ اور چاروں آئمہ کی قبور پر بھی باقی دیگر آئمہ طاہرین علیہم السلام کے مزاروں کی طرح خوبصورت ضریحیں اور گنبدیں موجود تھیں جنہیں وہابیوں نے ڈھا دیا۔
لیکن ہر عقلمند آدمی کو یہ سوچنا چاہیئے  کہ اسی سعودی عرب میں آج بھی خیبر کے باقی ماندہ کچھ کھنڈرات بچے ہوئے ہیں جنہیں پوری دنیا سے یہودی دیکھنے کے لئے آتے ہیں جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آل سعود کے یہودیوں(یعنی روئے زمین پر مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمنوں) کے ساتھ کتنے گہرے اور اچھے روابط و تعلقات ہیں۔
کون نہیں جانتا کہ جہاں بھی آج مسلمان ہیں ان کا آج یہی اسرائیلی یہودی قتل عام کررہے ہیں اس کے باوجود یہ وہابی ان سے ہر طرح کے معاملات انجام دے رہے ہیں اس لئے علماء کی ذمہ داری ہے کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے غاصب اسرائیل سے آل سعود کی دوستی کا پردہ فاش کرتے ہوئے ان کی منافقت کو سب کے لئے عیاں کرنا چاہیئے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम