Code : 1607 55 Hit

آل سعود،تکفیریت اور استعمار کے اتحاد کی کہانی(2)

محمد بن عبدالوہاب نے غنیہ کے امیر عثمان کو اپنے حملہ آوروں کے ذریعہ مسجد کی محراب میں قتل کروا دیا ۔چنانچہ وہابیوں کے اہم مرکز سے شائع ہونے والی کتاب تاریخ نجد میں محمد بن عبد الوہاب کے خطوط موجود ہیں جن میں ذکر ہوا ہے کہ عثمان بن معمر کافر و مشرک تھا ۔اور جب مسلمانوں کو اس کے کفر کا یقین ہوگیا تو انہوں نے جمعہ کی نماز کے بعد اس کو قتل کرنے کی ٹھان لی ۔اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسجدوں میں قتل کروانا یا بم دھماکہ کروانا ان وہابیوں کی فطرت میں شامل ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے مضمون میں آل سعود، تکفیریت اور استعمار کے اتحاد کے تعلق سے کچھ ابتدائی چیزیں آپ حضرات کے سامنے پیش کی تھیں اور یہ عرض کیا تھا کہ جب سے وہابیت عرصہ وجود میں آئی ہے اسی وقت سے دنیا میں دہشتگردی اور تکفیری ٹولے ظاہر وہے ہیں اور اگر وہابیت سے تکفیریت کو نکال دیا جائے تو وہابیت کی پہچان ہی ختم ہوجائے گی۔یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی حکومت خود کو باقی رکھنے کے لئے تکفیریت اور دہشت کو فروغ دیتی ہے۔اور اگر سعودی حکومت ان دونوں چیزوں کو چھوڑ دے تو اس کی حکومت پر خطرات کے بادل منڈلانے لگے۔اور آج کی اس کڑی میں مزید کچھ حقائق سے نقاب کشائی کی کوشش کی جائے گی لہذا گذشتہ مضمون کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے:
آل سعود،تکفیریت اور استعمار کے اتحاد کی کہانی(1)
گذشتہ سے پیوستہ: وہابی اپنے باطل عقائد کو پھیلانے کے لئے کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں۔ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہی محمد بن عبد الوباب نے درعیہ کے حاکم محمد بن سعود کے ساتھ معاہدہ کیا اور صرف محمد بن سعود ہی کی بات نہیں بلکہ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے ہر بڑی طاقت سے معاہدہ کرنے کو تیار تھا اور سامراج کے تلوے چاٹنے کو آمادہ تھا۔ تاریخ نجد نامی کتاب میں عبداللہ فيلبی تحریر کرتا ہے کہ ابن عبد الوہاب نے اپنے شاگردوں کے دماغ میں جہاد کے واجب فلسفہ کو پوری طرح بٹھا دیا تھا ان میں سے اکثر جہاد کو اپنے لئے مقدس فرص سمجھتے تھے، ابن عبدالوہاب لوٹے ہوئے مال کا پانچواں حصہ شاہی خزانے میں اس لئے جمع کرتا تھا کہ اسے محمد بن عبد الوہاب اور محمد بن سعود جب اور جہاں چاہیں اپنی مرضی سے خرچ کرسکیں۔چنانچہ انہیں سب چیزوں کے سبب محمد بن عبد الوہاب کی ایک دو سال میں ہی حکومتی معاملات میں کافی عمل دخل ہوگیا تھا۔
آپ کو یہ پڑھ کر بھی تعجب ہوگا کہ وہابیت نے شمشیر اور جنگ کو اپنا نعرہ بنا رکھا تھا جس پر سعودی حکومت آغاز سے لیکر آج تک باقی و قائم ہے۔ نجد کے لوگوں نے جب ابن عبد الوہاب سے معاہدہ کیا تھا تو اس وقت ان کی زندگی نہایت فقیری و تنگدستی میں گذر بسر ہوتی تھی یہاں تک کہ ابن عبد الوہاب کے شاگردوں کے سارے اخراجات محمد بن سعود کو اٹھانا پڑتے تھے اور آس پاس کے مسلمان شہریوں پر حملہ کرکے لوٹے گئے مال کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کیا تھا جس میں پانچواں حصہ ابن سعود کے لئے اور باقی مال جنگجؤوں سے مخصوص کردیا جاتا تھا اور ان میں بھی پیدل دستے اور سوار جنگجؤوں کا حصہ الگ الگ ہوتا تھا اور جو حکومت کے خاص مناصب پر کام کرتے تھے انہیں ایک خطیر رقم دی جاتی تھی۔محمد بن عبدالوہاب کے عقیدے کے مطابق یہ مسلمانوں کی مسلمانوں سے لڑائی نہیں تھی بلکہ اس کی نظر میں یہ سب مخالفین مشرک ہوچکے تھے جنہیں لوٹ کر ان کا مال بطور جنگی غنائم آپس میں تقسیم کرلیا جاتا تھا۔
محمد بن عبدالوہاب نے غنیہ کے امیر عثمان کو اپنے حملہ آوروں کے ذریعہ مسجد کی محراب میں قتل کروا دیا ۔چنانچہ وہابیوں کے اہم مرکز سے شائع ہونے والی کتاب تاریخ نجد میں محمد بن عبد الوہاب کے خطوط موجود ہیں جن میں ذکر ہوا ہے کہ عثمان بن معمر کافر و مشرک تھا ۔اور جب مسلمانوں کو اس کے کفر کا یقین ہوگیا تو انہوں نے جمعہ کی نماز کے بعد اس کو قتل کرنے کی ٹھان لی ۔اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسجدوں میں قتل کروانا یا بم دھماکہ کروانا ان وہابیوں کی فطرت میں شامل ہے۔ عینیہ کی عوام نے حکومت اور ابن عبد الوہاب کے مظالم کے خلاف احتجاج کئے لیکن ان بے چاروں کو  ان حاکموں کے ظلم کا سامنا کرنا پڑا جن کو ابن عبد الوہاب کے فتوؤں اور اس کی بدعتوں کی حمایت حاصل تھی۔ ان حاکموں نے ان لوگوں پر حملہ کر کے پورے شہر کو برباد کردیا ۔گھروں اور عمارتوں کو مسمار کردیا گیا۔کنؤوں کو مٹی ڈال کر بند کردیا گیا درختوں کو جلا دیا گیا خواتین کی عصمت تار تار کرڈالی گئی۔جو عورتیں حاملہ تھیں ان کے پیٹ چاک کر بچوں کو ذبح کردیا گیا ،گھروں میں جانوروں سمیت سبھی چیزوں کو لوٹ لیا گیا چنانچہ 1163 ہجری سے آج تک شہر عینیہ کھنڈر بیتے ہوئے لمحات کے تصویر پیش کرنے کے لئے کافی ہیں۔
محمد بن عبد الوہاب اس بدعت کو پھیلانے ،قتل و غارتگری کرنے اور ہزاروں بے گناہوں کا خون بہانے کا مجرم ہے اور اس بارے میں خود اس کے بھائی شیخ سلیمان کا بیان کافی ہے۔وہ تحریر کرتے ہیں کہ:تم معمولی معمولی باتوں یہاں تک کہ شک کی بنیاد پر بھی کفر و شرک کے فتوے صادر کردیتے ہو۔ اسلام کی تعلیمات کا صراحت کے ساتھ انکار کردیتے ہو اور وہ لوگ جو تمہارے تکفیری فتوے نہیں مانتے تم انہیں بھی کافر و مشرک ٹہراتے ہو۔ چنانچہ محمد بن عبد الوہاب کا بھائی شیخ سلیمان بن عبد الوہاب اپنی کتاب ’’الصواعق الالھیۃ‘‘ میں لکھتا ہے کہ: آج لوگ ایسے شخص’’ محمد بن عبد الوہاب‘‘ کے جال میں پھنس چکے ہیں جو قرآن و سنت کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے مخالفین کو کوئی اہمیت نہیں دیتا بلکہ لوگوں پر اپنی پیروی اور اتباع کو واجب قرار دیتا ہے اور جو اس کی مخالفت کرے اسے کافر و مشرک بتاتا ہے اس کے اندر مجتہد والی کوئی شرط نہیں پائی جاتی۔ خدا کی قسم! خدا کی قسم!(دو مرتبہ قسم کھا کر کہا) مجتہدین کے علم اور کردار کا دسواں حصہ بھی اس کے پاس نہیں ہے اور اس کے افکار نظریات اکثر جاہلوں کے درمیان پھیلے ہوئے ہیں۔ ساری امت ایک ساتھ اس کی مخالفت کررہی ہے لیکن وہ اسے جاہل اور کافر بتاتے ہوئے کسی کا کوئی جواب نہیں دیتا۔خدایا! اس گمراہ کی ہدایت کر اور اسے حق کی طرف پلٹا دے۔
اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ: محمد جن اسباب کے بنا پر لوگوں کو کافر گردانتا ہے اور ان کے قتل کا فتوا دیتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ احمد بن حنبل کے زمانے سے امت کے سارے علماء اور عوام مرتد و کافر ہوچکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر وہ لکھتے ہیں اے محمد!(اپنے بھائی سے مخاطب ہوتے ہوئے) جو کچھ تم کہتے ہو میں اس سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔
قارئین کرام! قتل و غارتگری کے ایسے واقعات متعدد بار حجاز کی تاریخ میں دہرائے گئے ہیں اور اپنے کو خادم الحرمین کہنے والوں کے زمانے میں متعدد بار مسلمانوں اور یہاں تک کہ حاجیوں کے خون سے ہولی کھیلی گی چنانچہ ہم آپ کی توجہ 6 ذی الحجہ سن 1407 ہجری کے اس جعمہ کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں جسے ’’سیاہ جمعہ‘‘ کہا جاتا ہے کہ جب شاہ فہد کے حکم پر ہزاروں حاجیوں کو حرم میں قتل کردیا گیا اور ان کا صرف یہ قصور تھا کہ وہ مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کی طرف دعوت دیتے ہوئے ایک جگہ جمع ہوکر اللہ کو پکار رہے تھے اور امن و امان کے شہر مکہ میں دنیا کی سب سے بڑی سامراجی طاقت امریکہ اور اس کے نور عین اسرائیل جیسے ممالک سے اپنے تعلق نہ ہونے کا اعلان کررہے تھے کہ جنہوں نے امریکہ و اسرائیل  کے غلام اور ان کے تلوے چاٹنے والے وہابیوں کے ہاتھوں خون میں نہا کر اس کی قیمت چکائی۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम