یوکرین جنگ کی کہانی ؛ جنگ سے واپس آنے والے امریکیوں کی زبانی

یوکرین میں روس کے خلاف لڑنے کے لیے جانے والے امریکی اور دیگر غیر ملکی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ جسیی ہمیں توقع تھی اس کے بالکل برعکس دیکھنے کو ملا

ولایت پورٹل:واشنگٹن پوسٹ نے کیف حکومت کے اتحادیوں کی طرف سے غیر ملکی جنگجوؤں کو یوکرین میں روس کے ساتھ لڑنے کے لیے بھیجے جانے کے بارے میں  ایک رپورٹ شائع کی ہے تا کہ لڑائی کے جوش و خروش اور میدان جنگ کی خوفناک حقیقت کے درمیان فاصلے کو اجاگر کیا جا سکے۔
اس انٹرویو کے آغاز میں امریکی میرین کور کے ایک  ریٹائرڈ فوجی ڈکوٹا کا تعارف کرایا گیا  ہے، جو جنگ کے لیے یوکرین گئے تھے، ان کا کہنا ہے کہ بمباری کی وجہ سے وہ زیادہ خوفزدہ نہیں ہوئے جس دیوار کے پیچھے وہ چھپے ہوئے تھے اس سے روسی گولیاں اس طرح آر پار ہو رہی تھیں کہ مجھے اپنا ہی وہ جملہ اور تکیہ کلام جو میں ہمیشہ اپنے ساتھیوں اور ماتحت فوجیوں سے کہا کہا کرتا تھا کہ جنگ میں ایسا ہوتا ہے، ایک مذاق  سا لگا ۔
انہوں نے کہا کہ وہاں کچھ عام نہیں تھا، چاروں طرف خوف ہی خوف تھا جو ہم نے محسوس کیا  خاص طور پر اس وقت جب میں نے چھپے ہوئے سنا کہ روسی حملہ آور ہیلی کاپٹروں نے  میری  قیادت میں ٹینک شکار کرنے والی ٹیم کے ٹھکانے پر حملہ  کرنے کا حکم دیا۔
واضح رہے کہ ڈکوٹا، جو یوکرین میں سات ہفتے لڑنے کے بعد اوہائیو واپس آئے ہیں، نے کہا، سچ یہ ہے کہ وہ وقت میرے لیے اب تک کا سب سے ہنگامہ خیز لمحہ تھا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین