Code : 4404 2 Hit

روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جرائم کی داستان؛ قصورواروں کو کسی نے پوچھا تک نہیں

ایک برطانوی اخبار نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ان جرائم کی سیٹلائٹ تصاویر کے باوجود مجرموں کو سزا دینے کی کوئی کوشش تک نہیں کی گئی۔

ولایت پورٹل:برطانوی اخبار دی آبزرور نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جرائم کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ میانمار کی ریاست راکھین میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کیا جارہا ہے اورغیر قانونی طور پر ان کی نسل کا خاتمہ کیا جارہا ہے۔
برطانوی اخبار نے مزید لکھا ہے کہ میانمار کی ریاست راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے ، وہ حقیقی معنی میں جرم ہے جس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ در حقیقت یہ جرم اس کے مرتکبین کے دامن پر ایک بدنما داغ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کو سزا کیوں نہیں دی جاتی ہے؟ یقینا اس سوال کے متعدد جوابات ہوسکتے ہیں،اوبزور کا کہنا ہے کہ ان سوالوں کے جوابات میں سے ایک یہ ہوسکتا ہے کہ میانمار غریب ملک ہے،اس غربت نے روہنگیا مسلمانوں کے لئے بین الاقوامی حمایت کو روک دیا ہےلیکن ان جرائم کے پیش نظر عالمی برادری کی خاموشی بھی قابل غور ہے۔
برطانوی اخبار نے لکھا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں پر وحشیانہ بربریت  کی سیٹلائٹ کی تصاویر ہونے کے باوجود ان جرائم کے مرتکب افراد کی شناخت اور انہیں سزا دینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہےجبکہعینی شاہدین نے واضح کیا ہے کہ میانمار کی فوج نے مسلمانوں کے خلاف بدترین جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
آبزرور کی رپورٹ کے مطابق دو عینی شاہدین  افسروں نے کہا ہے کہ  میانمار کی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام کیااور ان کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کردیا نیز میانمار کی فوج نے روہنگیا خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کی،ایک افسر نے یہ بھی کہا کہ فوج کو روہنگیا مسلمانوں ، بچوں اور بڑوں کو ہلاک کرنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن ان سب کے باوجود ، جرائم کے مرتکب افراد کو سزا نہیں دی گئی۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین