Code : 3793 3 Hit

مغربی پٹی کے الحاق کے منصوبہ کی حقیقت؛صیہونی اخبار کی زبانی

مقبوضہ فلسطین کے ایک اخبار نے بدھ کے روز مغربی کنارے کے 30 فیصد قبضے کے منصوبے پر عملدرآمد نہ کرنے کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے پس منظر کا اپنے نقطہ نظر سے تجزیہ کیا ہے۔

ولایت پورٹل:صیہونی اخبار ہارٹیز نے انشیل فیفر کے لکھے ہوئے ایک مضمون کو شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بدھ (4 جولائی) کو مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی نجی اراضی کے بڑے حصوں پر قبضہ کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد نہ کرنے کی اصل وجہ یہ  ہےکہ یہ منصوبہ ابتداء سے ہی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی بدعنوانی کے معاملات سے توجہ ہٹانے کا ایک ذریعہ تھا عملی منصوبہ نہیں تھا۔
اس مضمون کی شروعات ایک پرانی یہودی کہانی سے ہوئی ہے کہ چونکہ مقبوضہ فلسطین میں گذشتہ عام انتخابات سے قبل مہم کے آغاز میں چینل 12 کے ساتھ انٹرویو کے دوران نیتن یاہو کے مغربی کنارے پر قبضہ کرنے کا منصوبہ  نیتن یاہو کا عوامی افکار کر منحرف کرنے کا ذریعہ تھا۔
ہارٹیز نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ منصوبہ شروع سے ہی   صیہونی وزیر اعظم کی بدعنوانی اور اس کے آمرانہ طریقوں سے اسرائیلی رائے دہندگان کی توجہ ہٹانے کا ایک بہت بڑا طریقہ رہا ہے۔
اور اب یہ رائے عامہ کو کورونا وائرس کے بحران سے نکلنے کے لئے مناسب طریقے سے کسی حکمت عملی کو اپنانے میں ناکامی سے ہٹانے کا ایک ذریعہ ہے، اس کے علاوہ ان کے پاس  اس منصوبہ کا ڈھنڈورہ  پیٹنے کے علاوہ معاشی بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
مذکورہ اخبار نے اس منصوبے کے بین الاقوامی اثرات کے بارے میں بھی لکھا ہےکہ الحاق کے منصوبے نے نیتن یاہوکو بین الاقوامی میدان میں بھی فائدہ پہنچایا ہے کیوں کہ کئی دہائیوں سے عالمی برادری اسرائیل پر یہ دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ مغربی کنارے پر اپنا قبضہ ختم کرے ، فلسطینیوں کی نجی زمینیں واپس کرے ، صیہونیوں کی غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کو روکے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت دے۔
لیکن جب سے انھوں نے مغربی پٹی کے الحاق کا منصوبہ پیش کیا ہے کہ ،عالمی برداری ان سے کہہ رہی ہےکہ اپنے اس منصوبے سے دستبردار ہوجاؤ،اہم اپنے باقی مطالبات واپس لے لیں گے۔




0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین