Code : 4724 23 Hit

اسلام کا مخصوص عالمی نظریہ اور ایک زندہ تہذیب کا سنگ بنیاد

عبادت، اسلام کی نظر میں انسان کو خدا کی قربت کا احساس دلانے کا سبب اور ذریعہ ہے جس کے نتیجے میں وہ اس کے اندر ایک ایسی زائد الوصف توانائی پیدا کردیتی ہے۔ جو اسی تقرب خدا اور قربت الٰہی سے حاصل ہوتی ہے اور یہ وہ روحانی طاقت اس بات کا سبب بن جاتی ہے کہ وہ ضعف نفس کے تمام عیوب و نقائص اور اس کے مضرات سے محفوظ ہوجاتا ہے۔عبادت، اسلام میں بارگاہِ الٰہی میں حاضری و حضوری کا نام ہے اور یہ حاضری و حضوری، یہ راز و نیاز اور یہ صحبت و مصاحبت اعلیٰ الٰہی اوصاف و صفات اور فضل و شرف کے حصول کا موجب ہوتی ہے۔ اسی دلیل کی وجہ سے عبادت کو تمام فضائل و کمالات کا مصدر و منبع سمجھنا چاہیئے۔

ولایت پورٹل: اسلام میں انسان کی شخصیت کے لئے سب سے پہلا رکن اس مخصوص عالمی نظریہ (اصول جہاں بینی) ہے۔کیونکہ اسلام اپنے تین بنیادی ارکان کے سلسلے میں جو کہ عقائد و اعمال اور اخلاق سے متعلق ہیں، مسلمانوں میں ایک مخصوص طرز فکر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور انھیں ایک خاص عالمی نظریہ (جہاں بینی) کی تعلیم دیتا ہے۔تاکہ ان کے عقائد و عبادات، ان کے اعمال و افعال، ان کے حقوق و فرائض اور ان کے اخلاقیات اسی بنیاد پر ڈھالے جاسکیں اور انھیں خاص اسلامی رنگ دیا جاسکے۔
مثال کے طور پر اسلام پروردگار عالم کے لئے ایک خاص عقیدہ اور نظریہ رکھتا ہے۔اسلام کی نظرمیں خلاق عالم ہر حیثیت سے یگانہ و یکتا ہے، دانا و بینا ہے، عالم و عادل ہے، کمالات کا مجموعہ ہے، جملہ عیوب و نقائص سے پاکیزہ و منزّہ ہے، ازلی و ابدی ہے، دنیا و اہل دنیا اور مافیہا سے بے نیاز ہے، ہر شخص اور ہر حالت اس کے لئے یکساں ہے، اہل دنیا سے کوئی بھی اس سے کوئی خاص رشتہ و قرابت نہیں رکھتا، دنیا کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں لیکن پھر بھی وہ ان میں سے کسی ایک کا بھی محتاج نہیں ہے،افراد و معاشرہ کی کوئی حالت بھی اس کے کسی خاص تعلق کے قابل نہیں ہے اور خداوند عالم کسی صورت میں بھی کسی کے ارادے اور کسی کی تحریک سے  دنیا میں کوئی تغیر و تبدل پیدا نہیں کرتا۔
خداشناسی کا یہ اصول مسلمانوں کی توجہ کو اپنے ضمیر کی جانب مبذول کراتا ہے۔ اور وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی پاک فطرت اس کو اسی عقیدۂ معرفت کی طرف دعوت دیتی ہے اور جس وقت اسلامی تعلیمات و ہدایات کے مطابق آسمان و زمین کی تخلیق،روز و شب کی گردش اور آفاق و انفس کا مطالعہ کرکے ان کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے تو خداوند عالم کے متعلق اپنے مسلک و عقیدے کی مکمل صحت و درستگی کو قطعی اور یقینی طور پر محسوس کرلیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں دل و جان سے اس پر ایمان لاتا ہے اور یہ ایمان اس کے پورے وجود اور تمام رگ و پے میں سرایت کرجاتا ہے۔
خلاقِ عالم کے بارے میں یہ طرز فکر مسلمان کے ایمان سے متعلق تمام امتیازات و جملہ خصوصیات کو بالکل واضح طور پر پیش کرتا ہے اور نماز اور جملہ عبادات کی حقیقت کو اسلامی نقطۂ نظر سے روشن کرتا ہے۔
عبادات، اسلامی نظریے کے مطابق خدا کو راضی کرنے یا اس کو کوئی نفع پہنچانے کے لئے نہیں ہیں۔ اسی طرح کہ یہ اس کے قہر و غضب کو رفع کرنے یا اس کی عظمت و جلالت کو بڑھانے کے لئے بھی نہیں ہیں۔
عبادتِ خدا اس کی بندگی میں خلوص اور توحید پرستی قائم کرنے کے لئے ہے اس طرح سے وہ انسان کو ہر شخص اور ہر چیز کی پرستش سے نجات دلادیتی ہے اور تمام بتوں کو اس کی نظر میں توڑ دیتی ہے۔ کیونکہ اس کا سارا وجود اور اس کی تمام ہستی صرف خدا کی بندگی کے لئے وقف ہوکر رہ جاتی ہے اور اس کی عقل و فکر اور جسم و روح میں کسی دوسرے کی پرستش کے لئے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی ہے۔
عبادت، اسلام کی نظر میں انسان کو خدا کی قربت کا احساس دلانے کا سبب اور ذریعہ ہے جس کے نتیجے میں وہ اس کے اندر ایک ایسی زائد الوصف توانائی پیدا کردیتی ہے۔ جو اسی تقرب خدا اور قربت الٰہی سے حاصل ہوتی ہے اور یہ وہ روحانی طاقت اس بات کا سبب بن جاتی ہے کہ وہ ضعف نفس کے تمام عیوب و نقائص اور اس کے مضرات سے محفوظ ہوجاتا ہے۔
عبادت، اسلام میں بارگاہِ الٰہی میں حاضری و حضوری کا نام ہے اور یہ حاضری و حضوری، یہ راز و نیاز اور یہ صحبت و مصاحبت اعلیٰ الٰہی اوصاف و صفات اور فضل و شرف کے حصول کا موجب ہوتی ہے۔ اسی دلیل کی وجہ سے عبادت کو تمام فضائل و کمالات کا مصدر و منبع سمجھنا چاہیئے۔
اس مختصر سے بیان سے یہ بات بخوبی روشن اور واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام کے خداشناسی کے نظریے اور معرفت الٰہی کے عقیدے نے عبادت کے مفہوم کو کس حد تک مخصوص و متعین کردیا ہے اور اس کے ذریعے سے مسلمان کی ہمہ گیری و ہمہ جہتی اس کے مطابق کمال کے لئے کیسے اعلیٰ ترین وسائل مہیا کردیئے ہیں اور بلند ترین ذرائع پیدا کردیئے ہیں۔
اسلام اسی طرح ’’ اس عالَم ‘‘(یعنی دنیا) کے بارے میں بھی ایک خاص تصور اور ایک مخصوص تعبیر و تفسیر رکھتا ہے۔ یہ ’’جہاں بینی‘‘جو خود اسلام کے تصور خدا شناسی ہی کا نتیجہ ہے، اسلامی تعلیمات میں براہ راست بھی آیا ہے۔ ہم قرآن کریم میں پڑھتے ہیں کہ ’’اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہ یَسْجُدُ لَہٗ مَنْ فِیْ السَّمٰوَاتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ‘‘۔(سورۂ حج:۸)
ترجمہ :یعنی کیا تم نہیں دیکھتے کہ جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اور آفتاب وماہتاب، اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چارپائے(جانور)(غرض کہ تمام مخلوقات) اور انسانوں میں سے بہت سے لوگ، یہ سب کے سب خداکے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔
اور ہم یہ بھی پڑھتے ہیں کہ ’’وَاِنْ مِنْ شَیْئیٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ‘‘۔( سورۂ اسراء:۴۴)
یعنی سارے عالم میں کوئی چیز نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اللہ کی حمد و ثنا اور تسبیح خوانی کرتی ہے۔
اس حقیقت پر غور و خوض کرکے کہ سجدہ اطاعت و بندگی، خضوع و خشوع اور خلوص و اخلاص کی انتہائی منزل ہے۔ ان آیات اور تمام اسلامی تعلیمات سے اسلام کا یہ نظریہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ:
’’ یہ عالم ایک مفرد و مجرد اور مربوط و متصل مخلوق ہے جو کہ زندگی اور اس کی رنگینیوں اور رعنائیوں سے بھرپور نیز حیات اور اس کی آرائشوں اور زیبائشوں سے لبریز ہے۔ اس کی ہر منزل و مقام پر نظم و ضبط کی حکمرانی اور کارفرمائی ہے اور اس کے تمام اطراف و جوانب میں ارتباط وہم آہنگی قائم ہے۔ دنیا مسلسل کمال کی طرف گامزن اور ارتقاء کی جانب رواں دواں ہے اور حق و صداقت اور انصاف و عدالت کی مضبوط و مستحکم بنیادوں پر قائم کی گئی ہے۔ اس کا پورا وجود ایک مکمل ارتباط و ہم آہنگی اور اشتراک و تعاون کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس کے تمام موجودات اپنے پروردگار کی مطلق اطاعت و فرماں برداری کی نشاندہی کرتے ہیں۔
آپ خوب غور کیجئے کہ جہاں بینی کا یہ طرز فکر انسان کے ذہن و ضمیر پر کتنے عظیم اور بلند اثرات مرتب کرتا ہے۔ کیونکہ وہ یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ کائنات کا وسیع و عریض کارخانہ، اس کی ترکیب و ترتیب اور اس کا نظم و نسق اس کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اس کے شانہ بہ شانہ ہمیشہ اس کے ساتھ اشتراک و تعاون کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں اور اس کی تعمیری جدّ و جہد کے سلسلے میں اس کی کس قدر مدد اور پشت پناہی کرتے ہیں۔
اسلام، انسان کے لئے بھی ایک خاص تعبیر و تفسیر رکھتا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے انسان اس عالم موجودات میں ایک خصوصی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اس کی سرشت پاک و پاکیزہ ہے اور اس کی فطرت دین حق کی جانب مبذول ہوتی ہے۔ وہ ایسی مخلوق ہے کہ جس کو یہ اختیار ہے کہ اس راستے پر جو اس کے لئے معین و مقرّر کردیا گیا ہے گامزن ہوسکے یا اس سے منحرف اور روگرداں ہوجائے۔
اس کی تخلیق اس حیثیت سے ہوئی ہے کہ وہ فضائل و کمالات کے اکتساب میں آزاد و خود مختار رہے نہ کہ فرشتوں کی مانند جو تسبیح الٰہی اور عبادتِ خدا کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ نہیں جانتے،اور اپنی راہ کمال میں مجبور وبے بس ہیں۔
انسان، اسلامی نقطۂ نظر سے’’زمین پر خدا کی نمائندگی‘‘ کے بلند درجے پر فائز ہے اس لئے اسرارِ کائنات اور رموزِ عالم کی کنجی اس کے سپرد کی گئی ہے۔ اسے حقائق کی پردہ کشائی کے ذرائع اور تمام چیزوں پر دسترس حاصل کرلینے کے وسائل کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس کے سامنے فرشتوں نے سجدہ کیا ہے اور یہ بات طے ہوگئی ہے کہ اس جہانِ ہست و بود اور کائناتِ موجودات کی تمام طاقتیں اس کی مطیع و منقاد ہوجائیں۔
اور وہ واحد ذریعہ جو زمین پر الٰہی نمایندگی کے اس ارفع و اعلیٰ مقام تک پہنچنے کے لئے موجود ہے یہ ہے کہ وہ اپنی حیرت انگیزصلاحیت کو کام میں لاکر اپنے علم و دانش کے ذریعے عالم ہستی کی حقیقتوں اور گوناگوں طاقتوں سے واقف ہوجائے اور اس کے آئین و قوانین کاانکشاف کرے۔
اسلام نے ’’انسان شناسی‘‘ کے اپنے اسی مفہوم کی بنیاد پر اپنے تمام آئین و قوانین مرتب کئے ہیں اور اسی بنیاد پر دوسروں کے ساتھ کسی فرد کے روابط وتعلقات‘‘ ’’ معاشرے کے ساتھ کسی شخص کے روابط و تعلقات‘‘ اور دنیا کے ساتھ سب کے روابط و تعلقات ‘‘ کی ترتیب و تنظیم کی ہے اور اس طرح مسلمانوں کو اپنے ملکی و مدنی، شہری و انتظامی اور بین الاقوامی قوانین کے فلسفے سے روشناس کراتا ہے اور اسے یہ بتاتا ہے کہ کون سی روش اور کیسا برتاؤ اس کی ’’انسانی برداری‘‘ کے لئے مناسب ہے۔اور اسی کے ساتھ مرد مؤمن کے دل میں تابناک مستقبل کی امید جگاتا ہے اور اس کو دوسروں سے پرامید بنا دیتا ہے اور اسے مطمئن کردیتا ہے کہ حق و صداقت غالب رہتا ہے اور دعوتِ حق کامیاب ہوتی ہے کیونکہ دنیا کی تمام طاقتیں اور تمام انسانوں کے دل و دماغ اس کے معاون و مددگار ہیں۔
’’جامعہ‘‘ (معاشرہ) بھی اسلام کی نظر میں ایک معین مفہوم رکھتا ہے۔ اس اصطلاح میں’’معاشرہ‘‘بھی انسانی وجود سے ظہور پذیر ہوتا ہے جو کہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے عالمِ وجود میں آیا ہے۔ اسی لئے اسلامی معاشرہ انسانی رنگ و بو رکھتا ہے نہ کہ فردی کہ جس میں سارے اصول و قوانین اجتماعی نہیں بلکہ انفرادی طور پر صرف فرد کے لئے ترتیب دیئے گئے ہیں جس میں (Sucialiste)یعنی معاشرے کی اصلیت کو یکسر طور پر بھلا دیا گیا ہے۔
اسلامی معاشرہ ایک ایسی ٹھوس اور خود مختار انجمن ہے جو سب سے الگ بھی ہے اور باہم مربوط بھی۔ یعنی ایک ایسی جماعت جو کسی صورت میں بھی ان جماعتوں اور طبقوں کے درمیان دائمی طور پر اندرونی کشمکش اور طبقاتی فرق و جماعتی تفریق کو باقاعدہ و باضابطہ طور پر اصطلاحی و رسمی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتی۔
اسلامی معاشرے میں یہ حقیقت قابل قبول ہے کہ ہر فرد اور ہر جماعت محدود و محیط عمل و ردِّ عمل اور فطری اسباب و عوامل کے زیر اثر مخصوص رنگ و وصف کی حامل ہے لیکن اس کا یہ تنّوُع یا اس سے بہتر الفاظ میں یہ کہ اس کے یہ رنگا رنگ حالات ان افراد کے درمیان کسی اختلاف کا باعث نہیں ہوتے بلکہ باہمی اشتراک و تعاون کا سبب اور آپسی لین دین کا ذریعہ بن کر کسی رائن بورڈ کی طرح موزوںوہماہنگ ہوتے ہیں ۔یہ گوناگوں افراد سب کے سب رضائے الٰہی کی تحصیل کے لئے ایک عمومی مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد کرکے ایک پیشروقافلے کو وجود میں لاتے ہیں۔
اس طرح ’’وحدت و کثرت‘‘ کی قسم انسان کے وجود میں نظر آتی ہے اور اس کا یہی مظاہرہ عالم خلقت میں بھی دکھائی دیتا ہے جو کہ گوناگوں اجزاء، کے ہوتے ہوئے بھی بذاتِ خود ایک واحد شئے کو تشکیل دیتے ہیں۔
غرض کہ اسلام میں ’’کام‘‘ دنیا وآخرت‘‘،’’جسم و روح‘‘، ’’خیر و شر‘‘، ’’طہارت و نجاست‘‘، ’’پاکیزگی و پلیدگی‘‘،’’حلال و حرام‘‘ اور ان کی مانند دوسرے تمام معاملات و مسائل کی تفصیلات و توضیحات دکھائی دیتی ہیں ۔
یہی تعبیرات و افکار اور نظریات اور یہی جہاں بینی اسلامی تہذیب و ثقافت کے پہلے رکن کو تشکیل دیتے ہیں جو کہ ایک مسلمان کے اخلاق و کردار، اعمال و افعال اور اصول و عقائد میں بنیادی اور کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین