گرجا گھروں میں جنسی استحصال پر مغربی سیاستدانوں کی خاموشی

2018 میں بچوں کے جنسی استحصال کے متاثرین کی درخواست پر قائم کیے جانے والے جنسی زیادتی کی تحقیق کرنے والے فرانسیسی آزاد کمیشن کی جانب سے گزشتہ مارچ میں جاری کی جانے والی ایک ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا کہ 10 ہزار بچوں کو فرانسیسی کیتھولک پادریوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہو گا۔

ولایت پورٹل:فرانس کی ایک سرکاری ایجنسی کی ایک رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ گرجا گھروں میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے ہزاروں واقعات ہوئے ہیں، اس سلسلے میں فرانس میں ریپ کی تحقیقات کے لیے بنائے جانے والے آزاد کمیشن نے کہاکہ  1950 کے بعد سے بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے کیتھولک پادریوں کی تعداد تقریبا2900 سے 3200 تک ہے۔
 کمیشن کے چیئرمین جین مارک ساوی نے کہا کہ ہمارا کم ترین تخمینہ یہ ہے کہ 2 ہزار سے 3 ہزار کے درمیان فرانسیسی پادریوں نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے، یہ اعداد و شمار پولیس ، چرچ ، عدلیہ اور دیگر اداروں سے متعلق اعداد و شمار کے تجزیے سے لیے گئے ہیں جبکہ کچھ گواہوں کی شہادتیں بھی کمیشن کے مقدمات میں موجود ہیں۔
 انہوں نے مزید کہا کہ 1950 کے بعد سے فرانس میں کیتھولک گرجا گھروں میں خدمات انجام دینے والے یا کام کرنے والے افراد کی تعداد 115000 سے زیادہ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ  اس خبر کے بعد کیتھولک رہنما پوپ فرانسس نے رد عمل ظاہر کیا، اس حوالے سے پوپ فرانسس نے کہاکہ میں ان متاثرین کے لیے اپنے دکھ اور درد کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس نقصان کا سامنا کیا ہےاور ہم چرچ کی اس مسئلے میں ناکامی پر شرمندگی اور شرم محسوس کرتے ہیں،واضح رہےکہ یہ پہلا موقع نہیں ہےجب چرچ میں جنسی زیادتی کی رپورٹ شائع کی گئی ہے۔
یادرہے کہ مغربی معاشرے میں مذہبی اداروں کی جانب سے بچوں کے ساتھ زیادتی کا معاملہ حالیہ برسوں میں تاریخی دستاویزات اور محققین کی رپورٹوں کے انکشاف کے ساتھ ایک سنگین رنگ اختیار کر چکا ہےنیز حالیہ برسوں میں یہ ایک سنگین بحران بن گیا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین