Code : 4292 19 Hit

سخت ترین امتحان میں امام حسین(ع) کی کامیابی کا راز

امام (ع) کے اس فقرے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امام (ع) نعمت خدا کے تذکرے اور اس کی تعریف و توصیف کے لئے بھی آیت قرآن مجید کے الفاظ سے الہام لیتے ہیں اور یہ بتلا رہے ہیں کہ میں کسی چیز کا مالک و مختار نہیں ہوں بلکہ میرا رب میرا مالک اور میری ہر چیز کا مختار ہے۔ ظاہر ہے ایسے پاکیزہ جذبات ہی الہی امتحانات میں سربلندی کا سبب قرار پا سکتے ہیں اور کربلا جیسے سخت امتحان میں کامیابی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام ! یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور یہاں اللہ اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے تاکہ پاس ہونے والوں کو اپنے خاص انعام و اکرام سے نوازے ۔ بس یہی وجہ ہے کہ اولیائے الہی اس دنیا کے تمام چھوٹے بڑے حادثات کو محض اتفاق کا نام نہیں دیتے بلکہ ان سب کو قادر متعال پروردگار کی جانب سے مقرر کردہ امتحان و آزمائش تصور کرتے ہیں۔ البتہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے ذہنوں میں  یہ سب حادثات و اتفاقات آزمائش کا درجہ نہیں رکھتے اور وہ انہیں کبھی اس نظر سے دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ وہ ان امتحانات میں سرخ رو نہیں ہو پاتے۔ لیکن جو لوگ ان سب کو امتحان و آزمائش تصور کرتے ہیں وہ ان میں پاس ہونے اور اپنے رب کے حضور سرخ رو ہونے کے لئے پوری کوشش اور تیاری کرتے ہیں۔
چنانچہ امام حسین(ع) بھی انھیں الہی نمائندوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے تاریخ انبیاء و اولیاء ۔ بلکہ بشریت ۔ میں سب سے سخت امتحانات دیئے ہیں۔ اور آپ ہمیشہ اپنے کو الہی الطاف کے حصار میں کھڑا پاتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی معروف دعا ، دعائے عرفہ میں ہر زاوئے سے  اپنی توحیدی و الہی رنگ کو پیش کرتے ہوئے اس کی نعمتوں کو اس طرح بیان فرمایا ہے:’’ابْتَدَأْتَنِی بِنِعْمَتِکَ قَبْلَ أَنْ أَکُونَ شَیْئاً مَذْکُوراً‘‘۔(۱) اے پروردگار ! تونے میرے وجود کا آغاز ہی اپنی نعمت کرم سے کیا ہے جبکہ میں اس سے پہلے کسی ذکر کے لائق بھی نہ تھا۔
نہایت توجہ کے قابل یہ امر ہے کہ امام حسین(ع) کا یہ فرمان اور دعا کا فقرہ قرآن مجید کی اس آیت سے کتنی ہماہنگی اور مطابقت رکھتا ہے چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:’’هَلْ أَتی‏ عَلَى الْإِنْسانِ حینٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئاً مَذْکُوراً‘‘۔(۲) یقیناً انسان پر ایک ایسا وقت بھی آیا ہے کہ جب وہ کوئی قابل ذکر شئ نہیں تھا۔
اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امام (ع) نعمت خدا کے تذکرے اور اس کی تعریف و توصیف کے لئے بھی آیت قرآن مجید کے الفاظ سے الہام لیتے ہیں اور یہ بتلا رہے ہیں کہ میں کسی چیز کا مالک و مختار نہیں ہوں بلکہ میرا رب میرا مالک اور میری ہر چیز کا مختار ہے۔ ظاہر ہے ایسے پاکیزہ جذبات ہی الہی امتحانات میں سربلندی کا سبب قرار پا سکتے ہیں اور کربلا جیسے سخت امتحان میں کامیابی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
بصیرت اور فرض شناسی
ہر ایک شخص اپنے خاص حالات و شرائط میں زندگی بسر کرتا ہے اور انہیں حالات و شرائط کے اعتبار سے اسے  الہی آزمائشوں اور امتحان سے گذرنا پڑتا ہے۔ اب ظاہر ہے ہر امتحان اپنی ایک خاص نوعیت کا ہوتا ہے اس کے سوالات دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں ، واضح الفاظ میں ایسا کہہ سکتے ہیں کہ ہر ایک شخص کو الہی امتحان دینے اور اس میں قبول ہونے کے لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس کا فرض کیا ہے اور اسے کون سا عمل کس وقت اور کس موقع پر انجام دینا ہے۔ اسے ہی شریعت کی زبان میں بصیرت اور فرض شناسی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
امام حسین(ع) اس لحاظ سے کہ عالم اسلام کی ایک معروف شخصیت اور وقت کے امام اور رسول اللہ(ص) کے نواسے تھے اور اللہ نے آپ کو علم لدنی اور شجاعت سے نوازہ تھا۔
امام حسن(ع) کی شہادت کے بعد آپ عالم اسلام کی سب سے مؤثر شخصیت ہیں لہذا جب معاویہ کی موت کے بعد یزید کی حکومت کا آغاز ہوا اور اس نے دین کے تمام اقدار کو اپنے پیروں تلے روندنا شروع کیا تو امام حسین(ع) اپنے فرض منصبی کے تقاضے کو پورا کرتے ہوئے اس کے مقابلے کے لئے کھڑے ہوگئے اور امت کی اصلاح کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی قربانی تک سے دریغ نہ کیا۔
چنانچہ آپ نے اپنے قیام کے اسباب کے متعلق خود اس طرح وضاحت فرمائی ہے:’’إِنِّی لَمْ أَخْرُجْ بَطِراً وَ لَا أَشِراً وَ لَا مُفْسِداً وَ لَا ظَالِماً وَ إِنَّمَا خَرَجْتُ أَطْلُبُ الصَّلَاحَ فِی أُمَّةِ جَدِّی مُحَمَّدٍ أُرِیدُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَ أَنْهَى عَنِ الْمُنْکَرِ أَسِیرُ بِسِیرَةِ جَدِّی وَ سِیرَةِ أَبِی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِب‏‘‘۔(۳)
میں فساد پھیلانے، سرکشی کرنے اور ظلم کرنے کے لئے قیام نہیں کر رہا ہوں بلکہ میرا قیام  اپنے جد محمد(ص) کی امت کی اصلاح ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے اور اپنے جد رسول اللہ(ص) اور بابا علی مرتضیٰ (ع) کی سیرت زندہ کرنے اور اس پر پر عمل کرنے کے لئے ہے۔
چنانچہ آج پوری دنیا میں موجود آزادی کے خواہاں امام حسین(ع) کے قیام کی عظمت کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کرتیں ہیں اور امام حسین(ع) کے قیام اور آپ کی ذات کو اور آپ کے باوفا اصحاب کو عقیدت و احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں اور آپ کو اپنے لئے سب سے بڑا اسوہ اور آئیڈیل مانتے ہیں۔
آپ کی مجاہدانہ تلاش و کوشش
اپنے فرض کو پہچاننے کے بعد امتحان الہی میں کامیابی کے لئے محکم اور ثبات قدمی سے کھڑے ہوجانا ،تمام روکاوٹوں کو درمیان سے ختم کردیتا ہے چونکہ :’’وَ أَنْ لَیْسَ لِلْإِنْسانِ إِلاَّ ما سَعى‏‘‘۔(۴) انسان کے لئے صرف  اس کی کوششیں ہیں اور بس ۔ البتہ اس نکتہ کی جانب بھی توجہ رہے کہ کوشش جتنی مشقت آمیز مجاہدانہ اور درست طریقہ پر ہوگی اس کے نتائج اتنے ہی بہتر اور دیر پا ہونگے ۔
ہر لمحہ خدا سے مدد طلب کرنا
انسان کی زندگی میں اس کے توحید کے مضبوط و مستحکم عقیدہ کی جھلک اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ مصیبت اور مشکلات میں گھرا ہوا ہوتا ہے۔ البتہ حقیقی مؤمن وہی ہے جو ایک لمحہ کے لئے بھی خدا سے غافل نہ ہو۔ اسی لئے انسان کی زندگی میں غیبی امداد کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ اور چونکہ امام حسین(ع) امام الموحدین و معصوم ہیں اور اللہ نے آپ کو فوق العادہ اختیارات اور طاقت سے نوازا تھا اسی لئے آپ ہر جگہ اس آیت کریمہ:’’إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسْتَعین‏‘‘ کا عینی مصداق نظر آتے ہیں اور امت کو یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ جب خدا کسی کے حق میں خیر کا ارادہ کرلے تو دنیا کی بڑی سے بڑی ظالم و جابر طاقت بھی اس کا راستہ نہیں روک سکتی اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے۔(۶)
خدا سے مدد اور اس کے سہارے کی آرزو عاشورا کے اس سخت اور مشکل دن بھی امام حسین(ع) کے وجود سے ظاہر ہے چنانچہ راوی نقل کرتا ہے: کہ عاشورا کے دن کربلا میں ۳۰ ہزار دشمنوں کا لشکر تھا اور تین دن کی بھوک و پیاس کے باوجود جب جب حسین(ع) نے اعداء پر حملہ کیا تو یہ فقرہ زبان پر جاری تھا:’’ لا حول و لا قوّة الاّ باللّٰه ‘‘۔(۷) اور یزید کا لشکر ٹڑھی دل کی طرح پورے میدان کربلا میں منتشر ہوجاتا تھا۔ ظاہر ہے کہ خدا کی مدد اور اس کی نصرت کے بغیر امام حسین(ع) اس معرکہ میں سر بلند نہیں ہو سکتے تھے اور نہ ہی قرب پروردگار کی اس عظیم منزلت پر فائز ہوسکتے تھے۔
زندگی کے آخری لمحات تک ثبات قدمی کا مظاہرہ کرنا
جتنا امتحان اور آزمائش سخت و مشکل ہوتی ہے اتنا ہی انسان کی امیدوں اور جذبات و احساسات کا بھی امتحان ہوتا ہے تب جاکر کوئی شخص اپنے امتحان میں کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے اور جو شخص زندگی کے آخری لمحات تک اللہ پر توقع اور توکل کرتا ہے اس میں پائداری اور مقاومت کا جذبہ اتنا ہی قوی ہوجاتا ہے اسی لئے اس سے کوئی دشمن مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں کر پاتا ۔ البتہ یہ مقاومت ، پائداری اور ثبات قدم ایسے لوگوں کے حصہ میں آتے ہیں جن کی لو صرف اللہ سے لگی ہوئی ہو  اور جس کی امید صرف پروردگار کی ذات ہو۔ چنانچہ امام حسین (ع) اپنے آخری دم تک ثبات قدمی اور مقاومت کا بہترین نمونہ ہیں کہ آپ نے دشمن کی ۳۰ ہزار فوج کا صرف کچھ اصحاب کے ساتھ مقابلہ کیا اور آخری دم تک مقاومت و ثبات قدمی کا مظاہرہ کیا اس طرح کے تین دن کی بھوک ، پیاس ، اعزاء و اقرباء کی شہادت بھی حیسن(ع) کو اپنے موقف سے ہٹنے پر مجبور نہ کرسکیں ۔(۸)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔إقبال الأعمال (ط - القدیمة)، ج‏1، ص: 340۔
۲۔سوره انسان: 1۔
۳۔مناقب آل أبی طالب علیهم السلام (لابن شهرآشوب)، ج‏4، ص: 89۔
۴۔سوره نجم: 39۔
۵۔سوره حمد: 5۔
۶۔سوره یونس:107۔
۷۔اللهوف على قتلى الطفوف ،ترجمه فهرى، النص، ص: 119۔
۸۔کامل الزیارات، ص: 176۔

تحریر : سجاد ربانی


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین