Code : 2721 94 Hit

اسلام میں پردہ کیوں؟

اسلام اپنی پوری قوت و قدرت کے ساتھ احکامات جاری کرتا ہے اور معاشرے میں مرد وعورت کے درمیان ایک مضبوط حد اور فاصلے کو قرار دیتا ہے اور ان کے درمیان تعلقات میں سختی کی پابندی کرتا ہے۔ اسلام کی رو سے کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اِس حد کو پائمال کرے اور اس قانون کی بے احترامی کرے ، کیونکہ اسلام نے خاندان اور گھرانے کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ گھر کے گلشن میں مرد و عورت کا باہمی رابطہ کسی اور قسم کا ہے اور معاشرے میں کسی اور قانون کے تابع۔ اگر معاشرے میں مرد و عورت کے درمیان حائل فاصلوں کے قانون کا خیال نہ رکھا جائے تو نتیجے میں خاندان اور گھرانہ خراب ہوجائے گا۔

ولایت پورٹل: مرد اور عورت کی درمیانی حد (یعنی پردہ) پر اسلام نے بہت  تأکید  اور رہنمائی فرمائی ہے۔ یہاں ایک بنیادی نکتہ ہے کہ جس پر اسلام نے بہت زیادہ تأکید کی ہے اور وہ یہ ہے کہ تاریخ میں مردوں کے مزاج ،عورتوں کی نسبت سخت اور اِن کے ارادے مشکلات کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے قوی اور جسم مضبوط رہے ہیں۔ اِسی وجہ سے انہوں نے اہم ترین کاموں اور مختلف قسم کی ذمہ داریوں کو اپنے عہدے لیے ہوا تھا اور یہی وہ چیز ہے کہ جس نے مردوں کیلئے اپنی جنس مخالف سے اپنے فائدے کیلئے سوء استفادہ کرنے کے امکانات فراہم کئے ہیں۔ آپ دیکھئے کہ بادشاہوں، ثروت مندوں، صاحب مقام و صاحب قدرت افراد میں سے کون نہیں ہے کہ جس نے اپنے اپنے درباروں اور اپنے اپنے دارئرہ کار میں اپنے مال و دولت اور مقام قدرت وغیرہ کے بل پر صنف نازک سے سوء  استفادہ کیلئے اقدامات نہ کئے ہوں؟!
یہ وہ مقام ہے کہ جہاں اسلام اپنی پوری قوت و قدرت کے ساتھ احکامات جاری کرتا ہے اور معاشرے میں مرد وعورت کے درمیان ایک مضبوط حد اور فاصلے کو قرار دیتا ہے اور ان کے درمیان تعلقات میں سختی کی پابندی کرتا ہے۔ اسلام کی رو سے کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اِس حد کو پائمال کرے اور اس قانون کی بے احترامی کرے ، کیونکہ اسلام نے خاندان اور گھرانے کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ گھر کے گلشن میں مرد و عورت کا باہمی رابطہ کسی اور قسم کا ہے اور معاشرے میں کسی اور قانون کے تابع۔ اگر معاشرے میں مرد و عورت کے درمیان حائل فاصلوں کے قانون کا خیال نہ رکھا جائے تو نتیجے میں خاندان اور گھرانہ خراب ہوجائے گا۔ گھرانے میں عورت پر اکثر اوقات اور مرد پر کبھی کبھار ممکن ہے ظلم ہو۔ اسلامی ثقافت ، مرد و عورت کے درمیان عدم اختلاط کی ثقافت ہے۔ ایسی زندگی، خوشبختی سے آگے بڑھ سکتی ہے اور عقلی معیار و میزان کی رعایت کرتے ہوئے صحیح طریقے سے حرکت کرسکتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں اسلام نے سختی کی ہے۔
اسلام کی رو سے اگر معاشرے میں (نامحرم) مرد اور عورت کے درمیان فاصلے اور حد کو عبور کیا جائے، خواہ یہ خلاف ورزی مرد کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے تو اسلام نے اِس معاملے میں سخت گیری سے کام لیا ہے۔ اسی نکتے کے بالکل مقابل وہ چیز ہے کہ جسے ہمیشہ دنیا کے شہوت پرستوں نے چاہا اور اس پر عمل کرتے رہے ہیں۔ صاحبان زر و زمین اور قدرت و طاقت رکھنے والے مرد،خواتین ، اُن کے ماتحت افراد اور اُن افراد نے کہ جنہوں نے اِن افراد کے ساتھ اور اِن کیلئے زندگی بسر کی، یہی چاہا ہے کہ مرد و عورت کا درمیانی فاصلہ اور حد ختم ہوجائے۔ البتہ خود یہ امر معاشرتی زندگی اورمعاشرتی اخلاق کیلئے بہت برا اور مُضّر ہے۔ یہ فکر و خیال اورعمل معاشرتی حیا و عفت کیلئے باعث زیاں اور گھر و گھرانے کیلئے بہت نقصان دہ اور برا ہے اور یہ وہ چیز ہے کہ جو خاندان اورگھرانے کی بنیادوں کو متزلزل کرتی ہے۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین