Code : 1643 73 Hit

قرآن مجید کی روشنی میں دعا کے احکام و آداب(2)

اللہ تعالٰی کی مدد کے بغیر کوئی بھی چیز ادھوری ہے یعنی جب تک جھوٹوں اور دشمنوں کے مقابل اللہ کی مدد انسان کے شامل حال نہ ہو تو وہ دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتا چنانچہ سورہ مؤمنون کی 26 و 39 آیات، سورہ بقرہ کی 250 اور 286 اور سورہ عنکبوت کی 30 ویں آیات میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔اس کے علاوہ قرآن مجید میں امن و امان ، رزق و زندگی میں وسعت و برکت، رحمت الہی کی شامل حال ہونا ،صالح اولاد اور قبولی اعمال وغیرہ وہ چیزیں جن کے بارے میں دعائیں کرنا چاہیئے اور قرآن مجید نے ان سب کی تأکید فرمائی ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم کل اس سلسلہ کی گذشتہ کڑی میں یہ بیان کیا تھا کہ قرآن مجید کی روشنی میں دعا ایک واجب امر ہے یعنی مؤمنین کو ہمیشہ اہل دعا و مغفرت ہونا چاہیئے۔اور اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ دعا ایک مستحب امر ہو اور اگر کسی کا دل نہ کرے تو وہ دعا کرنا چھوڑ دے!چونکہ دعا کے ترک کرنے کا مطلب غرور ،تکبر اور اکڑ ہے۔ جیسا کہ ابلیس نے اسی طرح عمل کیا اور پھر اسے مردود ہوکر جنت سے نکلنا پڑا اور آخرکار اس کا ٹھکانہ جہنم قرار پائے گا۔ اور ہم نے کچھ دعا کرنے کے کچھ آداب بیان کئے تھے چنانچہ آج بھی ہم کچھ آداب بیان کریں گے لہذا ہمارے گذشتہ مقالہ کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجیئے!
قرآن مجید کی روشنی میں دعا کے احکام و آداب(1)
گذشتہ سے پیوستہ:
9۔اللہ کے صفات کمال کی طرف توجہ: دعا کرتے وقت انسان اپنے نقائص اور عیوب کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور جب یہ چاہتا ہے کہ انہیں اپنے سے دور کرے تو اللہ تعالٰی کے صفات کمال کی طرف توجہ کرنے سے اس کی ایک ایک صفت کمال کو پڑھتا جائے اور اپنے نقص و عیب کو دور کرتا جائے اسی وجہ سے قرآن مجید کی آیات میں دعا کرتے وقت اللہ تعالٰی کے صفات کمال اور اس کی حمد و ثنا کو دعا کرنے کے ایک بہترین ادب کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’ وَلِلَّـهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا،وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ‘‘۔(سورہ اعراف:180) اور اللہ ہی کے لئے بہترین نام ہیں لہذا اسے ان ہی کے ذریعہ پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں بے دینی سے کام لیتے ہیں عنقریب انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔
اسی طرح قرآن مجید کی متعدد آیات میں مؤمنین کرام اور خاص طور پر دعا کرنے والوں کے لئے ہدایات دی گئیں ہیں کہ جب بھی دعا کے دوران اللہ کو پکاریں تو اسے اس کے  اسمائے حسنٰی کے ذریعہ پکاریں اور یہ ایک محبوب عمل ہے چنانچہ سورہ بقرہ کی 128 اور 129 ویں آیات۔ آل عمران کی 8 ، 35 ، اور 38 ویں آیات نیز سورہ اسراء کی 110 ویں آیت میں تأکید ملتی ہے۔
10۔خدا پر توکل: دعا کے اہم آداب میں سے ایک اللہ پر توکل کرنا ہے چنانچہ سورہ یونس کی 84 سے 88 ویں آیات تک یہ مضمون صراحت کے ساتھ دلالت کرتا ہے۔
11۔مخفیانہ طور پر دعا کرنا: قرآن مجید کی روشنی میں دعا کرنے کا ایک اہم ادب یہ ہے کہ اپنی دعا کو مخفی طور پر کرنا چاہیئے چنانچہ سورہ انعام کی 63 ویں اور سورہ اعراف کی 55 اور 205 ویں آیات میں اس کی طرف اشارات موجود ہیں۔
12۔خوف و رجا کی حالت: دعا کرتے وقت خوف اور امید کی حالت دعا کرنے والے پر طاری رہنا چاہیئے اور اسے قرآن مجید نے ایک ادب کے طور پر پیش کیا ہے چنانچہ سورہ اعراف کی 56 اور سورہ انبیاء کی 90 ویں آیات میں ان مطالب کی طرف تأکید ملتی ہے۔
13۔دوسروں کے لئے دعا کرنا: قرآن مجید کی آیات کی روشنی اپنی دعاؤں میں دوسروں کو شامل کرنا اور ان کی حاجات کو اللہ تعالٰی سے طلب کرنا قبولیت دعا کی ضمانت شمار کیا گیا ہے اور یہ ایک بہترین ادب ہے اسی وجہ سے انسان کو چاہیئے اپنی دعاؤں میں ضرورتمندوں،غرباء کو شامل کرکے دعا کا دامن وسیع کرلینا چاہیئے چنانچہ قرآن مجید کی بہت سی آیات جیسا کہ سورہ بقرہ کی 128 ، 129 ،201 ، 250، 286 کی آیات نیز سورہ آل عمران کی 8، 16، 53 ،147 ، 193 اور 194 ویں آیات میں یہ مطلب صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
14۔اللہ کی نعمتوں کو یاد کرنا: قرآن مجید کی نظر میں دعا کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ انسان دعا کرتے وقت اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ کرے تاکہ اس پر مزید نعمتوں کا نزول ہو چنانچہ سورہ مبارکہ یوسف کی 101 ،سورہ ابراہیم کی 39 اور سورہ قصص کی 17 ویں آیات میں دعا کے درمیان نعمتوں کے تذکرے کو اہمیت دی گئی ہے۔
15۔ دعا کے لئے بہترین وقت کا انتخاب: اگرچہ ظاہری طور پر دعا کرنے اور اللہ کی بارگاہ سے طلب کرنے میں وقت کا کوئی خاص دخل نہیں ہے لیکن قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں کچھ مخصوص اوقات میں دعا کو ترک نہیں کرنا چاہیئے چنانچہ قرآن مجید میں آیا ہے کہ صبح سویرے اور شام کو دعا کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے اور ان دو اوقات میں کی گئی دعائیں کبھی رد نہیں ہوتیں چنانچہ سورہ انعام کی 52، سورہ کہف کی 28 اور سورہ سجدہ کی 15 و 16 ویں آیات میں رات کے سناٹے میں دعا کرنے کو ایک محبوب عمل شمار کیا گیا ہے۔ البتہ دعا کے متعلق مستحب یہی ہے کہ ہر عبادت سے فراغت کے بعد دعا کرنا چاہیئے اور سورہ بقرہ کی 125 ویں آیت میں اس امر کی تأکید ہوئی ہے۔
16۔ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا: ہاتھوں کو اٹھانا تضرع و التجاء کی علامت ہے اور دعا کا بہترین ادب ہے کہ سورہ آل عمران کی 61 ویں آیت میں اس کی طرف اشارہ ہوا ہے اور خود امام جعفر صادق علیہ السلام سے بھی ایک روایت نقل ہوئی ہے جس کا مضمون یہ ہے: کہ اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھانا اور پھیلانا گریہ و زاری کے ساتھ دعا کا بہترین ادب ہے‘‘۔(تفسیر نورالثقلین، ج 1، ص 350، ح 169)
کن چیزوں کے لئے دعا کرنا چاہیئے؟
قارئین کرام! ہم نے ابھی تک قرآن مجید کی روشنی میں دعا کرنے کے آداب بیان کئے اب ذرا بات کرتے ہیں کہ جب انسان اللہ کی بارگاہ سے کچھ طلب کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے کیا چیز مانگنا اور طلب کرنا چاہیئے؟
قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں جو چیز معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان ہر چیز کے لئے اور ہر حال میں دعا کرنے کا مجاز ہے یعنی وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز کے لئے دعا کرنا چاہیئے اور کوئی یہ تصور نہ کرے کہ چھوٹی چیزیں یا چھوٹے مسائل تو ہم خود ہی حل کرلیں گے چونکہ یہ امر توحید خداوند عالم کے منافی ہے۔
بہر کیف ہم یہاں کچھ ان چیزوں کا تذکرہ کررہے ہیں کہ دعا میں جن چیزوں کو اللہ سے طلب کرنا چاہیئے اور یہ وہ چیزیں ہیں جن کا دعاؤں میں طلب کرنا مستحب ہے۔
1۔آخرت: آخرت میں نیکی و حسنات کے حصول کے لئے دعا کرنا ایک مطلوب امر ہے چنانچہ سورہ بقرہ کی 201 اور202 ۔ نیز سورہ اعراف کی 156 ویں آیت میں اس امر کی جانب اشارہ ہوا ہے اور اسی طرح جنت میں اعلیٰ مقام اور اسکی نعمات کا حصول بھی دعا کا ایک اہم عنصر ہونا چاہیئے جیسا کہ سورہ تحریم کی 11 ویں آیت اس امر کی غماز ہے۔
2۔نماز پڑھنا: خود نماز کو قائم کرنے کی توفیق طلب کرنا نیز اپنی اولاد کے حق میں یہ دعا کرنا کہ وہ بھی نمازی بن جائیں یہ بھی قرآن مجید کی روشنی میں ایک مطلوب امر ہے چنانچہ سورہ ابراہیم کی 40 ویں آیت میں یہ بیان ہوا ہے۔
3۔صالحین سے ملحق ہونا: اپنی دعا کے دوران اللہ تعالٰی سے یہ طلب کرنا چاہیئے کہ ہمارا شمار صالحین میں ہوجائے چنانچہ سورہ یوسف کی 101، سورہ شعراء کی 83 اور سورہ نمل کی 19 ویں آیت میں اس امر کی جانب اشارات موجود ہیں۔
4۔الہی امداد:اللہ تعالٰی کی مدد کے بغیر کوئی بھی چیز ادھوری ہے یعنی جب تک جھوٹوں اور دشمنوں کے مقابل اللہ کی مدد انسان کے شامل حال نہ ہو تو وہ دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتا چنانچہ سورہ مؤمنون کی 26 و 39 آیات، سورہ بقرہ کی 250 اور 286 اور سورہ عنکبوت کی 30 ویں آیات میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔
اس کے علاوہ قرآن مجید میں امن و امان ، رزق و زندگی میں وسعت و برکت، رحمت الہی کی شامل حال ہونا ،صالح اولاد اور قبولی اعمال وغیرہ وہ چیزیں جن کے بارے میں دعائیں کرنا چاہیئے اور قرآن مجید نے ان سب کی تأکید فرمائی ہے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम