Code : 1632 116 Hit

قرآن مجید کی روشنی میں دعا کے احکام و آداب(1)

قرآن مجید کی روشنی میں دعا ایک واجب امر ہے یعنی مؤمنین کو ہمیشہ اہل دعا و مغفرت ہونا چاہیئے۔اور اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ دعا ایک مستحب امر ہو اور اگر کسی کا دل نہ کرے تو وہ دعا کرنا چھوڑ دے!چونکہ دعا کے ترک کرنے کا مطلب غرور ،تکبر اور اکڑ ہے۔ جیسا کہ ابلیس نے اسی طرح عمل کیا اور پھر اسے مردود ہوکر جنت سے نکلنا پڑا اور آخرکار اس کا ٹھکانہ جہنم قرار پائے گا۔

ولایت پورٹل: دعا عبادت کا جان،اللہ کے سامنے تواضع  و انکساری کا مظہر،غرور و تکبر سے گریز، تقدیر میں بہتری، بلاؤں کو رفع کرنے اور منافع کو اپنی طرف جذب کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے دعا کو بہت اہمیت دی ہے اور دعا کے متعلق بہت سی چیزیں جیسا کے دعا کے فوائد، اس کے آثار،آداب و احکام وغیرہ کو بیان کیا ہے۔
دعا عبادت کی جان
قرآن مجید کی زبان میں دعا کو ایک ایسی خالص عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے جس کے بے شمار فوائد و آثار ہیں چونکہ وہی لوگ دعا کی طرف رغبت رکھتے ہیں کہ جو غرور تکبر سے دور ہوں اور تواضع و انکساری کے کمال پر ہوں چنانچہ اللہ تعالٰی سورہ غافر کی 60 ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے:’’وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُونِی أَسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِینَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُونَ جَهَنَمَ دَاخِرِینَ‘‘۔اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا اور یقیناً جو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلّت کے ساتھ جہّنم میں داخل ہوں گے۔
اس آیت کی روشنی میں صرف وہ لوگ دعا نہیں کرتے جو مغرور ہوتے ہیں اور ان کا یہی غرور و اکڑ انہیں جہنم میں لے جائے گا۔اور اس کے برخلاف دعا تواضع و انکساری کی علامت ہے اور انسان کو سب سے بڑی بدبختی یعنی جہنم سے نجات دیتی ہے۔
اور جالب نظر بات یہ ہے کہ عربی زبان میں لفظ’’ صلاۃ‘‘ دعا اور پکارنے کے لئے وضع ہوا ہے۔ اس بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اصلی نماز و صلاۃ یہی دعا ہے اور رسول اللہ(ص) کا ارشاد بھی ہے:’’ الدعاء مخ العبادۃ‘‘۔(بحارالانوار، ج 93، ص 300)؛ دعا عبادت کی جان اور مغز ہے۔چونکہ عبادت کا بہترین جلوہ دعا کے وقت ظاہر ہوتا ہے اور نماز کے بنیادی چیزیں بھی دعائیہ کلمات پر مشتمل ہیں جیسا کہ’’اهدِنَــــا الصِّرَاطَ المُستَقِیمَ‘‘۔(فاتحه الکتاب، آیه 6) ؛وغیرہہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت فرماتا رہ۔
دعا کے احکام
قرآن مجید کی روشنی میں دعا ایک واجب امر ہے یعنی مؤمنین کو ہمیشہ اہل دعا و مغفرت ہونا چاہیئے۔اور اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ دعا ایک مستحب امر ہو اور اگر کسی کا دل نہ کرے تو وہ دعا کرنا چھوڑ دے!چونکہ دعا کے ترک کرنے کا مطلب غرور ،تکبر اور اکڑ ہے۔(سورہ غافر:60) جیسا کہ ابلیس نے اسی طرح عمل کیا اور پھر اسے مردود ہوکر جنت سے نکلنا پڑا اور آخرکار اس کا ٹھکانہ جہنم قرار پائے گا۔(بقره، آیت 34، 74 اور 75)
قرآن مجید اس امر کی تأکید کرتا ہے کہ انسان کو ہر حال اور ہر چیز کے لئے دعا کرنا چاہیئے۔ اور نماز اور روزہ کے قالب میں دعا کرنا ایک ایسا طریقہ ہے جس کی اللہ تعالٰی سورہ بقرہ کی 45 اور 153 ویں آیت میں تأکید کرتا ہے۔
دعا کے آداب
اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری دعائیں کامل اور با اثر ہوں اور ہمیں دنیا و آخرت میں سعادت مند بنائیں تو ہمیں ان آداب کے ساتھ دعائیں کرنا ہونگی جن کی طرف قرآن مجید نے ہدایت فرمائی ہے۔چنانچہ قرآن مجید نے دعا کے حوالہ سے متعدد آداب کا ذکر کیا ہے جنہیں تفصیل کے ساتھ اس مختصر مقالہ میں سمیٹا نہیں جاسکتا لہذا ہم یہاں اختصار کے ساتھ فہرست وار کچھ خاص آداب کا ذکر کرنے پر اکتفاء کریں گے:
1۔خلوص: اس بات میں کوئی شک نہیں کہ خلوص یعنی کسی بھی کام کو صرف اللہ کے لئے انجام دینا توحید کا بنیادی ترین رکن ہے اور قرآن مجید نے دعا کے وقت خلوص نیت کی بڑی تأکید کی ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ‘‘۔(سورہ بقرہ:186) اور اے پیغمبر! اگر میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں ان سے قریب ہوں. پکارنے والے کی آواز سنتا ہوں جب بھی پکارتا ہے لہٰذا مجھ سے طلب قبولیت کریں اور مجھ ہی پرایمان و اعتماد رکھیں کہ شاید اس طرح راسِ راست پر آجائیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مجھے خلوص کے ساتھ پکارو گے تو میں ان سے دور نہیں ہوں بلکہ تمہارے بلکل قریب ہوں اور اس کے علاوہ بھی سورہ یونس کی 22 ویں، سورہ اعراف کی 29 ویں سورہ کہف کی 14 اور 28 ویں آیات اور سورہ عنکبوت کی 65 ویں آیت میں اس امر کی جانب مؤمنین کی توجہ دلائی گئی ہے۔
2۔ایمان کا اظہار: اگرچہ ایک مؤمن کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کے حضور و بارگاہ میں ہے اور کوئی لمحہ بھی اس سے اوجھل نہیں ہوتا لیکن دعا کرتے وقت اپنے ایمان کا اظہار کرنا قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں ایک مطلوب امر ہے کہ جسے دعا کے ایک ادب کے طور پر بیان کیا گیا ہے چنانچہ سورہ آل عمران کی 16، 53 اور 193 ویں آیات،مائدہ کی 83 ویں سورہ مؤمنون کی 100 ویں آیات میں اسے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
3۔اللہ کی وحدانیت کا تذکرہ: قرآن مجید کی روشنی میں دعا کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ اپنی دعا کے دوران ضرور بالضرور اللہ کی وحدانیت کا تذکرہ کریں اور لا الہ الا اللہ جیسے کلمات کو اپنی دعا کا حصہ بنائیں جیسا کہ سورہ انبیاء کی 87 ویں آیت میں اس امر کی جانب اشارہ ہوا ہے۔
4۔اپنی بندگی و عبدیت کا اظہار: دعا کے آداب میں سے ایک اللہ کی بارگاہ میں اپنی بندگی اور عبدیت کا اظہار کرنا بھی ہے چنانچہ سورہ فاتحہ کی آیت 5 اور 6 میں یہ امر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
5۔استغفار: اصولی طور پر استغفار یعنی اللہ سے اپنی بخشش طلب کرنا بھی ایک طرح کی دعا ہی ہے لیکن اسے کسی بھی دعا کی ابتداء سمجھا جاسکتا ہے چونکہ جب تک انسان اپنے کو گناہ و لغزشوں سے پاک نہ کرلے اس وقت تک اس کی دعا باب اجابت تک نہیں ٹکراتی چونکہ استغفار ہی وہ جوہر ہے جو انسان کے وجود کو آلودگی سے پاک کرکے کمال کے لئے آمادہ کرتا ہے اسی وجہ سے انسان کو استغفار اور استغفر اللہ جیسے کلمات اپنی دعا کے آغاز میں استعمال کرنا چاہیئے۔ چانچہ دعا کے درمیان استغفار کو قرآن مجید نے ایک ادب کے طور پر بیان کیا ہے چنانچہ اللہ تعالٰی سورہ آل عمران کی 147، 193 اور 194 ۔ سورہ اعراف کی 151 اور 155 اور اسی طرح سورہ ص کی 35 ویں آیات میں بیان کیا ہے۔
6۔اپنے گناہ و لغزش کا اعتراف کرنا: دعا کے درمیان اپنے گناہ و خطا کا اقرار و اعتراف کرنا اور پھر اللہ سے اس کی بخشش طلب کرنا بھی قرآن مجید میں ایک ادب کے طور پر بیان ہوا ہے اور سور اعراف کی 23 ۔ سورہ انبیاء کی 87 اور سورہ قصص کی 16 ویں آیات میں اس کا صراحت کے ساتھ تذکرہ کیا ہے۔
7۔ اللہ کی ربوبیت کا واسطہ دینا: اللہ تعالٰی کی پناہ طلب کرنا اور اس کی ربوبیت کے سائے میں رہنے اور دعا میں اس کا تذکرہ کرنا قرآن مجید میں ایک ادب کے طور پر بیان ہوا ہے چونکہ انسان دعا کرتے وقت یہ ذہن نشین رکھے کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جو تمام کائنات کا پالنہار ہے اور ہر چیز کو کمال وہی عطا کرتا ہے چنانچہ سورہ بقرہ کی 126 ، 127 ، 128 اور 129 ویں آیات میں دعا کرتے وقت اس ادب کی رعایت کرنے پر تأکید ہے۔
8۔ تسبیح کرنا: تسبیح کا مطلب اللہ تعالٰی کو ہر طرح کے نقص سے پاک و منزہ تسلیم کرنا اور خاص طور پر جہل ، عاجزی و بخل کو اس کی ذات سے دور شمار کرنا دعا میں بے پناہ تأثیر کا حامل ادب ہے چنانچہ قرآن مجید میں دعا کرتے وقت تسبیح پڑھنے کو ایک شائستہ و مناسب عمل بتلایا ہے اور سورہ انبیاء کی 87 اور 88 ویں آیات اس کا سب سے بڑا شاہد ہیں۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम